کھجور: صحرائوں کا درختِ حیات، تہذیبوں کا امین اور غذائیت کا خزانہ

تحریر: حمید مروت

اگر دنیا کے چند ایسے درختوں کی فہرست بنائی جائے جنہوں نے ہزاروں برس تک انسانی تہذیب، معیشت، خوراک، مذہبی روایات اور ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے، تو کھجور کا درخت (Phoenix dactylifera) یقینا ان میں سرفہرست ہوگا۔ سخت ترین صحرائی ماحول میں بھی انسان کو غذا، سایہ، روزگار، تعمیراتی سامان اور زندگی کا سہارا فراہم کرنے کی وجہ سے اسے بجا طور پر "درختِ حیات” (Tree of Life) کہا جاتا ہے۔ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق کھجور کی کاشت کم از کم چھ سے آٹھ ہزار سال قبل جزیرہ عرب، میسوپوٹیمیا اور وادی سندھ میں شروع ہو چکی تھی۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع مہرگڑھ سے بھی تقریبا سات ہزار سال قبل کھجور کی کاشت کے شواہد ملے ہیں، جو اس خطے میں اس درخت کی قدامت کو ظاہر کرتے ہیں۔آج کھجور مشرقِ وسطی، شمالی افریقہ، جنوبی ایشیا، آسٹریلیا، امریکہ، اسپین اور دیگر گرم و خشک علاقوں میں وسیع پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے۔

سائنسی تعارف

کھجور کا سائنسی نام Phoenix dactylifera ہے اور یہ پام (Arecaceae) خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔
یہ درخت عموما 18 سے 30 میٹر (60 سے 100 فٹ) تک بلند ہوتا ہے جبکہ موزوں حالات میں اس کی عمر 100 سے 150 سال یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ بعض تاریخی درخت چار سو سال تک زندہ رہنے کے حوالے سے بھی مشہور ہیں۔
اس کے پتے 2 سے 4 میٹر لمبے، خوبصورت پنکھ نما ہوتے ہیں جبکہ درخت کا چھتری 4 سے 6 میٹر تک پھیل سکتا ہے۔

نر اور مادہ درخت

کھجور ایک دو جنسی (Dioecious) پودا ہے، یعنی نر اور مادہ درخت الگ الگ ہوتے ہیں۔نر درخت صرف زرگل (Pollen) پیدا کرتا ہے جبکہ مادہ درخت ہی پھل دیتا ہے۔قدرتی طور پر pollination ہوا کے ذریعے ہوتی ہے، لیکن تجارتی باغات میں تقریبا مکمل طور پر ہاتھ سے pollination کی جاتی ہے۔ ایک صحت مند نر درخت تقریبا 40 سے 100 مادہ درختوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔

پھل کب آتا ہے؟
بیج سے اگنے والے درخت نسبتا دیر سے پھل دیتے ہیں، جبکہ قلم یا آف شوٹس سے تیار کیے گئے پودے 3 سے 5 سال میں پھل دینا شروع کر دیتے ہیں۔تجارتی پیداوار عموما 6 سے 8 سال بعد حاصل ہوتی ہے۔ایک بالغ مادہ درخت سالانہ اوسطا 70 سے 140 کلوگرام کھجور پیدا کرتا ہے، جبکہ اچھی نگہداشت میں پیداوار اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ایک خوشہ میں کئی سو سے ایک ہزار تک کھجوریں موجود ہو سکتی ہیں اور ایک خوشے کا وزن 6 سے 8 کلوگرام تک پہنچ جاتا ہے۔

غذائیت کا خزانہ
کھجور دنیا کے سب سے زیادہ توانائی بخش قدرتی پھلوں میں شمار ہوتی ہے۔
100 گرام خشک کھجور میں تقریبا
280 کیلوریز
75 فیصد کاربوہائیڈریٹس
63 فیصد قدرتی شکر
8 فیصد غذائی ریشہ
پوٹاشیم، میگنیشیم، مینگنیز اور وٹامن B6 وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔
قدرتی شکر زیادہ ہونے کے باوجود فائبر کی وجہ سے اس کا گلیسیمک انڈیکس نسبتا معتدل رہتا ہے۔

جنسی صحت میں کھجور کا کردار

کھجور کو صدیوں سے قدرتی توانائی بخش غذا اور قوت بخش پھل سمجھا جاتا ہے۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں موجود قدرتی شکر، فائبر، پوٹاشیم، میگنیشیم، اینٹی آکسیڈنٹس اور دیگر غذائی اجزا جسمانی توانائی برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے مجموعی صحت اور مزاج (Mood) پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ روایتی طب میں کھجور کو مردانہ و زنانہ تولیدی صحت کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے، تاہم انسانوں میں جنسی کارکردگی یا خواہش (Libido) میں واضح اضافہ ثابت کرنے کے لیے مزید مضبوط سائنسی شواہد درکار ہیں۔ البتہ متوازن غذا کے حصے کے طور پر مناسب مقدار میں کھجور کا استعمال جسمانی توانائی، عمومی صحت اور خوش مزاجی کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

اسلام میں کھجور کی اہمیت
قرآن مجید میں کھجور اور کھجور کے درخت کا بیس سے زائد مرتبہ ذکر آیا ہے۔حضرت مریم علیہا السلام کو ولادتِ حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت اللہ تعالی نے کھجور کھانے کا حکم دیا۔رسول اللہ ۖ افطار تازہ یا خشک کھجور سے فرمایا کرتے تھے اور امت کو بھی اسی کی تلقین فرمائی۔ احادیثِ مبارکہ میں خصوصا عجوہ کھجور کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔رمضان المبارک میں دنیا بھر کے مسلمان سنتِ نبوی ۖ پر عمل کرتے ہوئے کھجور سے روزہ افطار کرتے ہیں۔

دنیا میں پیداوار
اقوام متحدہ کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق دنیا میں سالانہ تقریبا ایک کروڑ ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے۔
بڑے پیدا کرنے والے ممالک میں
سعودی عرب
مصر
الجزائر
ایران
پاکستان (پانچواں بڑا پیدا کنندہ)
شامل ہیں۔

کھجور کی مشہور اقسام
دنیا بھر میں کھجور کی سینکڑوں اقسام موجود ہیں، تاہم چند اقسام نے غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے۔
عجوہ (Ajwa): مدینہ منورہ کی مشہور اور بابرکت کھجور، جس کا رنگ سیاہی مائل اور ذائقہ منفرد ہوتا ہے۔ اسلامی روایات میں اسے خصوصی مقام حاصل ہے۔مجہول (Medjool): اسے "کھجوروں کا بادشاہ” کہا جاتا ہے۔ اصل وطن مراکش ہے۔ یہ بڑی، نرم، نہایت شیریں اور کیرامل جیسے ذائقے کی حامل ہوتی ہے، اسی لیے دنیا کی مہنگی اقسام میں شمار ہوتی ہے۔ڈگلیٹ نور (Deglet Noor): الجزائر اور تیونس کی مشہور قسم، جسے "روشنی کی ملکہ” بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا رنگ سنہری اور ساخت نیم خشک ہوتی ہے۔عنبر (Anbar): مدینہ منورہ کی نہایت قیمتی قسم ہے۔ اس کے پھل بڑے، گودا زیادہ اور بیج نسبتا چھوٹا ہوتا ہے۔ محدود پیداوار کی وجہ سے یہ دنیا کی مہنگی ترین کھجوروں میں شمار ہوتی ہے۔
برحی (Barhi): عراق کی مشہور قسم، جسے زرد اور نیم پکے مرحلے میں بھی شوق سے کھایا جاتا ہے۔
خلاص (Khalas): سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مقبول قسم، جس کا ذائقہ متوازن اور خوشبو دلکش ہوتی ہے۔
سکری (Sukkari): اپنی غیر معمولی مٹھاس کی وجہ سے سعودی عرب کی سب سے پسندیدہ اقسام میں شامل ہے۔
مضافتی (Mazafati): ایران کی نرم، رسیلی اور تازہ کھائی جانے والی مشہور کھجور۔
پاکستان میں بھی کئی اعلی اقسام پیدا ہوتی ہیں جن میں اصیل (سندھ)، بیگم جنگی (بلوچستان)، ڈکی (ڈیرہ اسماعیل خان) اور دیگر مقامی اقسام شامل ہیں۔

پاکستان میں کھجور
پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک ہے اور یہاں ہر سال تقریبا سات لاکھ ٹن سے زائد کھجور پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ ملک میں پیدا ہونے والی کھجور کا معیار عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے، لیکن جدید گریڈنگ، کولڈ اسٹوریج، پراسیسنگ، پیکنگ اور برآمدی سہولیات کی کمی کے باعث اس کا بڑا حصہ کم قیمت پر فروخت ہو جاتا ہے یا ضائع ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں کھجور کی کاشت کے اہم علاقے درج ذیل ہیں:
سندھ
بلوچستان
جنوبی پنجاب
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع
سندھ خصوصا سکھر، خیرپور اور گردونواح اعلی معیار کی کھجور اور چھوارہ تیار کرنے کے لیے مشہور ہیں۔بلوچستان کے تربت، پنجگور، کیچ اور مکران کے علاقے بھی عمدہ معیار کی کھجور پیدا کرتے ہیں، جبکہ جنوبی پنجاب کے مظفرگڑھ، لیہ، راجن پور اور ڈی جی خان میں بھی وسیع پیمانے پر اس کی کاشت ہوتی ہے۔
جنوبی خیبر پختونخوا کی کھجور
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع خصوصا ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت کھجور کی کاشت کے لیے نہایت موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ان علاقوں کی گرم، خشک آب و ہوا اور ریتلی زمین کھجور کے لیے قدرتی طور پر سازگار ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان کی "ڈکی” کھجور اپنے بڑے سائز، عمدہ ذائقے، نرم گودے اور اعلی معیار کی وجہ سے پورے پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی شہرت رکھتی ہے۔لکی مروت اور بنوں میں بھی گھریلو اور تجارتی سطح پر کھجور کے باغات موجود ہیں، جہاں یہ مقامی معیشت اور دیہی روزگار میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مقامی نام
جنوبی خیبر پختونخوا، خصوصا ضلع لکی مروت میں کھجور کے مختلف مراحل کے لیے دلچسپ مقامی نام استعمال ہوتے ہیں۔مکمل زرد لیکن ابھی پوری طرح نہ پکی ہوئی کھجور کو ڈوکہ کہا جاتا ہے، جبکہ جب پھل زرد اور بھورے رنگ کا ملا جلا ہو اور پکنے کے درمیانی مرحلے میں ہو تو اسے ٹکلائی کہا جاتا ہے اور پینڈ پورا پکا کھجور کا پھل.۔یہ دونوں مراحل مقامی لوگوں میں بے حد پسند کیے جاتے ہیں اور موسمِ گرما کی خاص سوغات سمجھے جاتے ہیں۔
استعمالات
کھجور کو تازہ، خشک (چھوارہ) اور نیم پکی حالت میں یکساں شوق سے کھایا جاتا ہے۔
اس سے شربت، سیرپ، مربہ، مٹھائیاں، بیکری مصنوعات، کھیر، حلوہ، انرجی بارز اور مختلف روایتی و جدید پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔رمضان المبارک میں دنیا بھر میں کھجور کی طلب کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔کھجور کے بیج پیس کر بعض علاقوں میں جانوروں کی خوراک میں شامل کیے جاتے ہیں، جبکہ بعض ممالک میں ان سے کافی نما مشروب بھی تیار کیا جاتا ہے-

درخت کا ہر حصہ مفید
کھجور صرف پھل ہی نہیں دیتی بلکہ اس کا تقریبا ہر حصہ انسان کے کام آتا ہے۔
پتوں سے چٹائیاں، ٹوکریاں، پنکھے، جھونپڑیاں، چھپر اور آرائشی اشیا بنائی جاتی ہیں۔
تنے کو تعمیرات، فرنیچر اور باڑ لگانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ریشوں سے رسیاں، برش اور مختلف گھریلو سامان تیار کیا جاتا ہے، جبکہ خشک پتے ایندھن کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔

بیماریاں اور کیڑے
کھجور کو متعدد بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں کا سامنا رہتا ہے، جن میں سب سے خطرناک ریڈ پام ویول (Red Palm Weevil) ہے، جو پورے درخت کو تباہ کر سکتا ہے۔اہم بیماریوں میں بے یود (Bayoud Disease)، بلیک اسکارچ، گرافیولا لیف اسپاٹ اور لیتھل ییلونگ شامل ہیں۔ان سے بچا کے لیے باغات کی صفائی، جراثیم سے پاک آلات کا استعمال، متاثرہ حصوں کی بروقت تلفی، مناسب آبپاشی اور مزاحم اقسام کی کاشت ضروری ہے۔

پاکستان میں امکانات
پاکستان میں کھجور کی پیداوار اور معیار دونوں عالمی معیار کے ہیں، لیکن اگر جدید باغبانی، ویلیو ایڈیشن، کولڈ اسٹوریج، پیکنگ، برآمدی معیار، تحقیق اور کسانوں کی تربیت پر توجہ دی جائے تو کھجور ملکی معیشت میں کپاس، چاول اور آم کی طرح ایک بڑی برآمدی فصل بن سکتی ہے۔
خصوصا جنوبی خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں جدید کھجور کے باغات اور پراسیسنگ یونٹس قائم کر کے ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

کھجور محض ایک پھل نہیں بلکہ انسانی تہذیب، مذہب، تاریخ، غذائیت اور معیشت کا ایک درخشاں استعارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے صدیوں سے "درختِ حیات” کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید، احادیثِ نبوی ۖ اور قدیم تہذیبوں میں اس درخت کا خصوصی مقام اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔پاکستان خوش قسمت ہے کہ وہ دنیا کے بڑے کھجور پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع اس نعمت سے مالا مال ہیں۔ اگر سائنسی بنیادوں پر اس کی کاشت، پراسیسنگ، برانڈنگ اور برآمدات کو فروغ دیا جائے تو کھجور نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ پاکستان کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کمانے والی اہم ترین زرعی فصلوں میں بھی شامل ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed