پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعجاز خان صابی نے اخباری مالکان کی جانب سے محکمہ اطلاعات سے بقایات کی وصولی کی توہینِ عدالت درخواست پر سماعت کے دوران شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ حکومت نے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے مقرر کر رکھی ہے، جبکہ بعض اخبارات فیلڈ کے صحافیوں کو محض 5 سے 10 ہزار روپے دیتے ہیں اور وہ بھی مہینوں روک کر رکھتے ہیں۔ عدالت نے اخبار مالکان کو ملازمین کے تمام واجبات اور کم از کم اجرت کی ادائیگی کے لیے ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ تعمیل نہ ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔







