خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات وتعلقات عامہ شفیع اللہ جان نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی سہیل آفریدی کی قیادت میں ہوگی ۔میڈیا کا پاکستان میں گلہ دبایا جا رہا ہے۔سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں سیاسی برداشت ہے۔جبکہ پنجاب میں صحافیوں کو کسی وزیر سے سوال پوچھنے کی بھی اجازت نہیں ۔خیبر پختونخوا کی حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو جلسوں کیلئے این او سی دیتی ہے لیکن تحریک انصاف کو اجازت نہیں ملتی ۔عمران خان اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں ۔ملک کی سیاسی تاریخ میں جو عمران خان نے قید کاٹی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔بانی کو وکلا اور بچوں سے بات اور علاج معالجہ کی سہولت نہیںلیکن وہ پھر بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔پاکستان میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے، پچھلے ایک ہفتہ میں ڈیزل 60 اور پٹرول 30 روپے لیٹر مہنگا ہوا۔حکومت نے ایران اور امریکہ کی جنگ کو غنیمت سمجھ کر لیوی کی مد میں عوام پر بوجھ ڈالا ۔عمران خان کی حکومت میں 150 روپے لیٹر پٹرول مہنگا تھا آج تین سو پچاس سے بڑھنے کے بعد بھی ان کو سستا لگ رہا ہے۔5 اگست سے اپنی اتحادی جماعت کے ساتھ عمران خان کی رہائی کی تحریک شروع کر رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایبٹ آباد پریس کلب کی نومنتخب کابینہ کی تقریب حلف برداری میں حلف لینے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر رکن قومی اسمبلی علی خان جدون ،ایم پی اے رجب علی عباسی ،ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ سرمد سلیم اکرم،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ہارون رشید،آل ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر سردار شاہنواز ،جنرل سیکرٹری سجاد خان جدون،ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حاجی صابر تنولی ایڈووکیٹ ،سابق ضلع ناظم سردار سعید انور ،سابق ممبر ضلع کونسل سردار فخر عالم گل ،امن کونسل برائے انسانی حقوق ایبٹ آباد کے چیف آرگنائزر انورداد ستی،چیئرمین ادارہ تدریس القرآن یتیم خانہ ساجد اعوان ،ایوان تجارت کے جنرل سیکرٹری مفتی جعفر طیار مقبول اعوان،ہزارہ ہومیو پیتھک ایسوسی کے صدر مسعود اختر تنولی ،ایبٹ آباد بزنس کونسل کے چیئرمین سلطان احمد نواز ،علی اصغر گروپ کے صدر ثاقب خان جدون ،حاجی عبد الحمید خان ،سماجی شخصیت مسعود الرحمن ،سابق امیدوار صوبائی اسمبلی اسد خان جدون اور دیگر موجود تھے ۔صوبائی وزیر شفیع اللہ جان کا کہناتھا وزیر اعلی کی ہدایت پر تمام وزرا ہر ضلع میں عوام کے درمیان جا کر مسائل حل کر رہے ہیں ۔خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی تیسری حکومت ہے ۔جو ایک ریکارڈ ہے ۔چوتھی اور پانچویں بھی حکومت تحریک انصاف کی بنے گی ۔انہوں نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے لئے وزیر اعلی نے اپنے حلف کے بعد جگہ جگہ سیمینار کئے اس کے بعد وفاقی حکومت نے جو ڈیٹا جاری کیا۔ان سے کہا کہ پنجاب سمیت سب کا موازنہ کریں اس کا آڈٹ کروانے کے تیار ہیں۔صوبائی حکومت 4ہزار 58ارب کے شیئرز کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔فاٹا کے ضم ہونے کے بعد ایک کروڑ کی مزید آبادی کا شیئرز 14فیصد سے 17پر چلا جائیگا۔انہوں نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے ایک ہفتہ میں ڈیزل 60روپے اور پٹرول 30 روپے مہنگا ہوا ہے ایران امریکہ جنگ کو حکومت نے غنیمت سمجھا ۔دنیا میں کہیں پٹرول کی قلت سامنے نہیں آئی پہلے 150کا مہنگا تھا 350سے اوپر سستا لگ رہا ہے۔روز بروز پٹرول کی قیمت بڑھانے سے عوام کی معاشی حالت خراب ہے لیکن اس پر کہیں بھی بات نہیں ہو رہی ہے۔شفیع اللہ جان کا کہناتھا عمران خان اور پاکستان لازم ملزوم ہیں ۔کسی ایک شعبہ میں حکومت کی خاطر خواہ کارکردگی ہو تو ہم ہار مان جائیں گے ۔میڈیا کو قابو کیا جا رہا ہے۔خیبر پختون خوا کے بلیو پاسپورٹ کو اسحاق ڈار کے کیس کو دبانے کے لئے اٹھایا گیا۔اس کیس کے تانے بانے مریم نواز اور اسحاق ڈار کے گھر تک جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت احتساب کے لئے تیار ہے عوام کے پاس جائیں گے ہمارے پاس کوئی چور دروازے نہیں ۔پانچ اگست کو عمران خان کی رہائی کی تحریک کا آغاز ہوگا ۔تحریک تحفظ کے ساتھ پشاور میں آگے کا لائحہ دیں گے ۔اس ریاست نے تین سال سے عمران خان کو اغوا کیا ہوا ہے ۔علیمہ آپا کی سٹریٹ موومنٹ کوشش قابل تحسین ہے یہ تحریک انصاف کے تمام ایم ہم ایز اور ایم پی ایز کی زمہ داری ہے ۔ہم سب عمران خان کی مرہون منت ہیں ۔اگر پارٹی کا ٹکٹ نہیں ہوتا تو یہاں نہ ہوتے ۔جن لوگوں نے عمران خان کے بیانہ کا ساتھ نہ دیا وہ آج منظر نامے سے غائب ہیں ۔صوبائی وزیر کا کہناتھا کشمیر الیکشن میں نورا کشتی چل رہی ہے ۔تحریک انصاف کا الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ صیح تھا۔شفیع اللہ جان کا کہناتھا صحافی عوام کو حقیقت دکھائیں۔پنجاب میں صحافی کسی وزیر سے بات نہیں کر سکتا ۔صحافی کے لئے خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ آزادی ہے۔خیبر پختون خوا کی حکومت کی خواہش ہے ہر شہر میں میڈیا کالونی بنائیں ۔صحافیوں کی فلاح وبہبود کے لئے 15 کروڑ کی گرانٹ پشاور پریس کلب کو دی ہے ،انڈومنٹ 20 کروڑ سے پچاس کروڑ کیا ہے۔ایک ہزار بلین وضائف کیلئے رکھے ہیں ۔صحافیوں کے بچوں کو سکالرز شپ دے رہے ہیں ۔صحافیوں کو بلاسود قرضے دیں گے ۔انہوں نے ایںٹ آباد پریس کلب کی میڈیا کالونی کے لئے اگست میں پہلی قسط دینے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے اس کا عمران خان کالونی نام ہونا چائیے۔انہوں نے ایکریڈیشن کارڈ کی شکایت اگلے ہفتہ میں دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ قانون سازی کرکے تحصیل کی سطح پر پریس کلب ختم کریں گے اس کو ضلع کی سطح پر لائیں گے ۔ڈیجیٹل کالے چینل جو صرف مخصوص ایجنڈا پر کام کرتے ہیں۔ان کی روک تھام ضروری ہے ۔انہوں نے پریس کلب کی نومنتخب کابینہ کو مبارکباد دی ۔اور مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ قبل ازیں رکن قومی اسمبلی علی خان جدون کا کہناتھا ایبٹ آباد پریس کلب کی میڈیا کالونی کا عرصہ سے مطالبہ ہے ۔انہوں نے صوبائی وزیر اطلاعات پر زور دیا ہے وہ ایبٹ آباد پریس کو صوبائی حکومت کے فنڈ سے میڈیا کالونی کا تحفہ دیں۔خیبر پختون خوا اسمبلی کے پارلیمانی سیکرٹری ایم پی اے رجب علی عباسی نے اپنے خطاب نومنتخب کابینہ کو حلف اٹھانے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ وہ صحافیوں کی فلاح وبہبود کے ساتھ معاشرے کی بہتری کے لئے کردار ادا کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے لئے جو معاشرے میں ریاست اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں بدنصیبی سے ان کا خدمات کا صیح صلہ نہیں ملتا۔صحافیوں کی مشکلات کے تدارک کے لئے حکومت عملی معنوں میں کردار ادا کرے۔انہوں نے ضلعی فنڈ سے پریس کلب کی تزئین وآرائش کے لئے پچاس لاکھ کا فنڈ دینے کا اعلان کیا ۔جب کہ صوبائی وزیر اطلاعات نے ایبٹ آباد کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے لئے پریس کلب کی تزئین وآرائش کے لئے پچاس پچاس لاکھ فنڈ کی فراہمی کے لئے قانون میں ترامیم لانے کی یقین دہانی کرائی ۔صدر پریس کلب سردار نوید عالم ،صدر ایبٹ آباد یونین آف جرنلسٹس عاطف قیوم نے اپنے خطاب میں یک نکاتی ایجنڈا میڈیا کالونی کے فنڈ کی فراہمی کا مطالبہ کیا ۔تقریب کے اختتام پر پریس کلب کی جانب سے صوبائی وزیر ،ایم این اے اور ایم پی اے کو یادگاری شیلڈ پیش کی ۔اور صدر آل ٹریڈرز فیڈریشن سردار شاہنواز اور صدر ہزارہ ہومیو پیتھک ایسوسی ایشن نے صدر پریس کلب کو سوینئر پیش کیا۔







