بھارت کے نوجوانوں کی جدوجہد رنگ لے آئی ۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے آخرکار استعفی دے دیا۔بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو استعفی بھجوا دیا ہے۔یہ احتجاج نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور امتحانی نظام پر اعتماد کے بحران کے خلاف شروع ہوا، طلبہ اور نوجوان مظاہرین نے نئی دہلی میں مظاہرے کیے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔احتجاج کے دوران نئی دہلی کے جنتر منتر اور دوسرے شہروں میں بھی مظاہرے ہوئے، بعض مواقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، جنتر منتر میں جاری احتجاج کے دوران کئی فلمی شخصیات بھی شریک ہوئیں اور طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔دھرمیندر پردھان نے ایکس پر لکھا کہ میں گزشتہ 4 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کیلئے وقف رہا ہوں، میرا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ ایک مضبوط، جامع اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ 3 مئی 2026 کو منعقد ہونے والے NEET-UG امتحان میں بے ضابطگیوں کے واقعات سامنے آئے، بھارتی حکومت نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کیں، امتحان منسوخ کیا اور دوبارہ امتحان کی تاریخ مقرر کی، اس کے ساتھ ہی اگلے سال سے یہ امتحان کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ(سی بی ٹی) طریقے سے منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔دھرمیندر پردھان نے کہا کہ میں نے پہلے ہی دن اس صورتحال کی ذمہ داری قبول کی اور کبھی اس سے منہ نہیں موڑا، میرا عزم تھا کہ کسی بھی ذہین طالب علم کا مستقبل امتحانی مافیا کی وجہ سے خراب نہیں ہونے دیا جائے گا اور کسی بھی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔انہوں نے دعوی کیا کہ 16 جولائی کو اعلان کیے گئے NEET-UG نتائج اطمینان بخش رہے، جن میں غریب پس منظر سے تعلق رکھنے والے کئی باصلاحیت طلبہ کو بھی کامیابی ملی، تاہم اس دوران بھی کچھ افراد نے، جو ذمہ دار عہدوں پر فائز تھے، کئی طلبہ کو گمراہ کرنے اور رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی، جس سے مجھے شدید دکھ ہوا۔وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے کہا کہ گزشتہ 10 دنوں کے واقعات کو دیکھ کر میرا دل دکھی ہے، یہ میرے لیے ذاتی عزت یا عہدے کا معاملہ نہیں ہے، بھارت کی نوجوان طاقت ہی اس ملک کی اصل طاقت ہے۔ بھارت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر کاکروچ جنتا پارٹی کا ردعمل سامنے آگیا۔دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پررد عمل دیا گیا جس میں لکھا تھا کہ ‘کاکروچز جیت گئے، جمہوریت جیت گئی’۔ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی صدر ابھیجیت دیپکے نے احتجاج میں شریک طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں اگر ڈر گئے تو پھر کیسی جمہوریت، اگر اپنی آواز اٹھاگے تو یہ لوگ لائن میں رہیں گے، انہیں لائن میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ جو خودکو بادشاہ سمجھ بیٹھے ہیں یہ ہماری وجہ سے بیٹھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دھرمیندر کا استعفی ہوگیا، ہماری دو اور مانگیں ہیں، ہی ایسے نہیں جائیں گے، کاکروچ ایک بار آجائیں تو جاتے نہیں، جن بچوں نے خودکشی کی ان کے خاندان کو ایک کروڑ معاوضہ دیا جائے، پولیس کے غنڈوں نے جو ایکشن کیا اس پر کارروائی ہونی چاہیے، پولیس یاد رکھے کاکروچ سے پنگا نہیں ، ایک وزیر کا استعفی لے سکتے ہیں تو تم کیا ہو۔ابھیجیت دیپکے نے مطالبہ کیا کہ جتنے طلبہ پر مقدمات بنے وہ سب کے سب واپس لیے جائیں۔







