صومالیہ میں اغوا کیے گئے بحری جہاز اور اس پر سوار پاکستانی عملے کی رہائی کے لئے 94 روز گزرنے کے باوجود کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔ رہنما برائے انسانی حقوق انصار برنی کا کہنا ہے کہ بحری قزاقوں نے پاکستان کے 10 مغویوں کے اہلِ خانہ سے رابطہ بھی منقطع کر دیا ہے جس کے باعث خاندان شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔انصار برنی نے بتایا ہے کہ بحری قزاقوں نے مغویوں کی رہائی کے بدلے 30 لاکھ ڈالرز تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزارتِ خارجہ اور وزارتِ انسانی حقوق مغوی پاکستانیوں کی محفوظ رہائی کے لیے صومالی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔







