شعیب جمیل
وفاقی آئینی عدالت نے فوجداری نظام عدل میں اصلاحات اورقانون سازی سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے لارجر بنچ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کردیا۔صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ قانون سازی کیلئے ہائیکورٹ کسی قسم کی ہدایات نہیں دے سکتی ، یہ اسمبلیوں کا اختیار ہے۔آئینی بنچ کے چیف جسٹس امین الدین ، جسٹس باقر نجفی اور سید ارشدحسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے خیبر پختونخوا حکومت اور اینٹی نارکاٹیکس فورس کیجانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کی۔ اس موقع پر صوبائی حکومت کی نمائندگی ایڈوکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمان خیل، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس و دیگر نے کی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ پشاور ہائیکورٹ کے 5رکنی لارجر بنچ نے 15 جنوری 2026 کوتفصیلی فیصلے میں کریمنل جسٹس سسٹم سے متعلق مختلف امور کی نشاندہی کی اور اس میں مختلف قانونی ترامیم تجویز کئے۔فیصلے میں ایسے امور کیلئے ہائیکورٹ نے احکامات دیئے جس کیلئے رٹ میں کوئی استدعانہیں مانگی گئی تھی۔ لارجر بنچ احکامات پر عملدرآمدسے بہت سے قانونی مسائل پیدا ہونگے ،قانون سازی کیلئے ہائیکورٹ احکامات نہیں دے سکتی ،اس میں اختیارات سے تجاوز کیا گیاکیونکہ یہ اسمبلیوں کا اختیار ہے۔اے جی نے مزید بتایاکہ کریمنل جسٹس سسٹم ، پولیس، پراسیکیوشن جیسے اہم امور پر قانون سازی کا حکم دیا گیا ہے تاہم جو احکامات دیئے گئے وہ ہائیکورٹ دائرہ اختیار میںنہیں آتے جبکہ اے این ایف نمائندے کا موقف تھا کہ منشیات سے متعلق قانون سازی میں وفاق کے دائرہ اختیار کو ٹچ کیا گیا اور صوبائی حکومت کو کہا گیا ہے کہ وہ ضروری اقدامات اٹھائیں ۔ایڈوکیٹ جنرل کے مطابق کسی بھی قانون کیلئے اسمبلی میں بحث کے بعد اس کو عملی جامہ پہنا یا جاتاہے۔ واصف اللہ کیس میں 157 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری ہواجس میں زیادہ تر قانون سازی کی ہدایت کی گئی اور یہ استدعا رٹ میں نہیں کی گئی۔انہوں نے بتایاکہ یہ ایک اہم نوعیت کا مسئلہ ہے اور ضروری ہے کہ اس پر ایک جامع فیصلہ آجائے ۔انہوں نے بتایاکہ صوبائی حکومت کو ایک ماہ کا وقت دیا گیا اور عملدرآمد نہ کرنیکی صورت میں توہین عدالت کی کاروائی شروع کرنے کا خدشہ ہے اسلئے اس فیصلے کو معطل کیا جائے ۔آئینی بنچ نے ہائیکورٹ فیصلہ معطل کرکے صوبائی حکومت و دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا۔







