پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر ایم این اے جنید اکبر نے کہا ہے کہ عمران خان سمیت نواز شریف، بلاول بھٹو اور دیگر جماعتوں کے قائدین کو ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکس کے نفاذ خاتمے کا کوئی احساس نہیں، اس کے لیے ملاکنڈ ویژن کے منتخب ممبران سمیت یہاں کے عوام کو اواز اٹھانا ہوگا، ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے ٹیکس نفاذ کے خلاف جب بھی احتجاج کا اعلان کردیا، تو منتخب ممبران اور کارکنوں سمیت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا بھی ا س میں سب سے آگے ہونگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملاکنڈ کے سیاسی جماعتوں اور ٹرینڈ یونین کی مشترکہ ایکشن کمیٹی کی طرف سے بٹ خیلہ میں احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جلسہ میں تاجروں سمیت سیاسی جماعتوں کے قائدین، کارکنوں اور سول سائٹی کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے لاکنڈدویژن میں ٹیکس نفاذ کو مسترد کردیا،مقررین میں جماعت اسلامی کے سابق صوبائی وزیر شاہ راز خان، پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر احمد علی شاہ باچا، جے یوآئی کے جنرل سیکرٹری سلمان تاثیر، ایکشن کمیٹی کے صدر اعجاز خان، ٹریڈ یونین کے صدر سکندر حیات، حاجی شاکر اللہ، قومی جرگہ کے صدر مولانا جاوید، پیر عظمت شاہ، الیاس خان، سخاکوٹ بازار کے صدر حمید خان لالاوغیرہ شامل تھے، انہوں نے ڈی سی ملاکنڈ کو خبردار کیا کہ ملاکنڈ میں ٹیکس وصول کرنے والے کسی قسم کے دفاتر کو اجازت نہ دیں ورنہ علاقہ کے عوام انہیں مسمار کریں گے، انہوں نے کہا کہ پہلے ملاکنڈ کی پسماندگی ختم کرنے کے لیے عوام کو سہولیات فراہم کی جائے، ملاکنڈ میں علاج کے لیے ہسپتال، تعلیم کیلئے سکول عمارتیں، پینے کے لئے پانی، امد و رفت کے لئے سڑکیں اورروزگار کے مواقع موجود نہیں عوام کو پہلے پشاور اور اسلام اباد کی طرح سہولیات دیں پھر ٹیکس نافذ کریں، جب تک ملاکنڈ ڈویژن کی پسماندگی ختم نہیں ہوتی اس وقت تک یہاں کسی قسم کی ٹیکس کو تیار نہیں۔







