ایران کے سابق رہبرِ اعلی علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ایران کے مقدس شہر قم میں ادا کر دی گئی، جہاں لاکھوں سوگوار تعزیت اور آخری رسومات میں شرکت کے لیے جمع ہوئے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نمازِ جنازہ شہر قم کے مضافات میں واقع مسجد جمکران میں ادا کی گئی۔سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیوز میں مسجد اور اس کے اطراف میں سوگواروں کا بڑا اجتماع دیکھا جا سکتا ہے، جہاں شہید رہبرِ اعلی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو نمازِ جنازہ کے بعد مزید مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے عراق لے جایا جائے گا، اس کے بعد میت کو دوبارہ ایران منتقل کیا جائے گا، جہاں جمعرات کے روز مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔علی خامنہ ای کی تدفین سے قبل ایران کے مختلف شہروں میں کئی روز سے تعزیتی تقریبات اور جنازے کی رسومات جاری ہیں جن میں عوام کے ساتھ ساتھ اعلی سرکاری شخصیات اور غیر ملکی وفود بھی شرکت کررہے ہیں ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز تہران میں ہونے والے جلوسِ جنازہ میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائدافراد نے شرکت کی، جلوس تقریبا 12 گھنٹے جاری رہا۔ دریں اثناء ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دھمکیاں جاری رہیں تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہوں گے، اپنے دستخط کی عزت کریں۔ایران امریکا مفاحمتی یادداشت کے حوالے سے عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی عوام اور نہ ہی ہماری بہادر مسلح افواج کسی بھی دھمکی سے متاثر ہوتی ہیں۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایم او یو کی شق نمبر 13 واضح ہے، دھمکیوں کے تسلسل میں حتمی معاہدے پر بات چیت شروع نہیں ہو گی، اپنے دستخط کا احترام کریں۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں ایرانیوں نے آیت اللہ خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جنازے میں اتحاد کا مظاہرہ کیا۔دوسری جانب ایرانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن قرار دیا ہے۔تہران میں حماس کی لیڈر شپ کونسل کے سربراہ محمد درویش سے ملاقات میں باقر قالیباف نے واضح کیا کہ معاہدے کے باوجود امریکا کے ساتھ شدید اختلافات برقرار ہیں۔







