وسطی اور شمال مغربی چین میں طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہو گئے جبکہ زیادہ خطرے سے دوچار علاقوں سے ہنگامی انخلا جاری ہے۔ مقامی میڈیارپورٹس کے مطابق انتظامی حکام نے بتایا ہے کہ تمام ہلاکتوں کی اطلاع صوبہ ہوبی میں ہوئی جہاں اس کا مشرقی علاقہ طوفانی بارشوں اور تیز ہوائو ں کی زد میں آیا۔ہوانگشی، ہوانگ گانگ، ایزو اور ژیاننگ کے شہروں میں طوفان اور تیز ہوائو ں نے تباہی مچائی۔ ہوانگ گانگ کے ہوانگ زو ضلع میں تین برادریوں کو خراب موسم کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔منگل کی صبح تک شدید موسم نے کمیونٹیز میں 275 افراد کو زخمی کیا۔ کمیونٹی حکام نے 400 سے زائد رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ دوسری جانب شمال مغربی صوبہ گانسو میں بھی مٹی کے تودے گرنے سے کئی لوگ لاپتہ ہو گئے۔ دوسری جا نب چین نے گنجان آباد شہروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایک منفرد اور نسبتا کم لاگت کا طریقہ متعارف کرایا ہے، جس نے سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کر لی۔چین کے شمالی صوبے شانسی کے شہر یونچینگ میں بلند و بالا رہائشی عمارتوں کی چھتوں پر ایک خصوصی کولنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے، جسے روف ٹاپ رین کا نام دیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس نظام کے تحت عمارتوں کی چھتوں پر نصب ہائی پریشر نوزلز ہوا میں پانی کی انتہائی باریک پھوار خارج کرتے ہیں، یہ باریک قطرے اردگرد کے ماحول کا درجہ حرارت تقریبا 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔یہ نظام ایواپوریٹو کولنگ کے اصول پر کام کرتا ہے، جس طرح جسم سے نکلنے والا پسینہ بخارات بن کر جسم کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے، اسی طرح پانی کے باریک قطرے گرم ہوا سے حرارت جذب کر کے بھاپ میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جس سے عمارت کے اطراف کا ماحول نسبتا ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔انتظامیہ کے مطابق یہ سسٹم صرف شدید گرمی کے دنوں میں چلایا جاتا ہے تاکہ پانی کے قطرے زمین تک پہنچنے کے بجائے ہوا میں ہی بخارات بن جائیں اور نیچے سے گزرنے والے افراد متاثر نہ ہوں۔اس انوکھے کولنگ سسٹم کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یورپ اور امریکہ سمیت مختلف ممالک کے صارفین اس پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں، متعدد افراد کا کہنا ہے کہ اگر یہ طریقہ موثر اور کم لاگت ہے تو اسے دنیا کے دیگر گرم علاقوں میں بھی اپنایا جانا چاہیے۔







