ایران نے آبنائے ہرمز میں غیر ملکی فوجی موجودگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ حساس آبی گزرگاہ کسی بھی بیرونی طاقت کے فوجی مظاہرے کی جگہ نہیں بن سکتی۔ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور، کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کی ذمہ داری صرف ایران اور عمان پر عائد ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی بیرونی فوجی نقل و حرکت کو قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کا ذمہ دار اور سلامتی کا ضامن ملک ہے، لہذا خطے میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری فوجی سرگرمی سے گریز کیا جانا چاہیے۔ایران کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کے سبکدوش ہونے والے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایک مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تمام ممالک کے جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق تازہ بحری معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے آٹھ تجارتی جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض آئل ٹینکر اور مال بردار جہاز آبنائے ہرمز کے داخلی مقام تک پہنچنے کے بعد اچانک واپس مڑ گئے، جبکہ چند جہازوں نے ایرانی حکام کی ہدایات کے مطابق اپنا بحری راستہ تبدیل کر لیا۔یاد رہے کہ ایران نے فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز میں اسرائیل یا امریکا سے منسلک بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں،







