خیبرپختونخوا سپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام عالمی سپورٹس جرنلسٹس ڈے کے موقع پر پشاور سپورٹس کمپلیکس میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی سابق صوبائی وزیر کھیل اور سابق صدر خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن سید عاقل شاہ تھے۔تقریب میں سکواش کے سابق عالمی چیمپئن قمر زمان، اے آئی پی ایس ایشیا ء کے سیکرٹری جنرل اور پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے صدر امجد عزیز ملک، خیبرپختونخوا سپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عاصم شیراز، سیکرٹری شاہد آفریدی سمیت کھیلوں سے وابستہ صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر عالمی سپورٹس جرنلسٹس ڈے کا کیک بھی کاٹا گیا جبکہ مہمانان خصوصی کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید عاقل شاہ نے عالمی سپورٹس جرنلسٹس ڈے پر کھیلوں کے صحافیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کھلاڑی اپنے ملک اور صوبے کا نام روشن کرتے ہیں، اسی طرح سپورٹس جرنلسٹس بھی ملک و قوم کا فخر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کھیلوں کی ہر سرگرمی میں سپورٹس صحافی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھاتے ہیں اور بلاامتیاز تمام کھیلوں کو بھرپور کوریج فراہم کرتے ہیں جو قابلِ ستائش ہے۔انہوں نے کہا کہ امجد عزیز ملک نے پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن کی بنیاد رکھ کر اسے قومی سطح سے بین الاقوامی سطح تک متعارف کرایا، جو کھیلوں کی صحافت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔سینئر وائس پریزیڈنٹ خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن اور سکواش لیجنڈ قمر زمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ سپورٹس جرنلزم کھیلوں کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے کھیل کے دوران تربیت دی جاتی تھی کہ سپورٹس جرنلسٹس کا احترام کیا جائے کیونکہ وہ نہ صرف مقابلوں کے نتائج رپورٹ کرتے ہیں بلکہ کھیلوں کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے خامیوں کی نشاندہی بھی کرتے ہیں، جو کھلاڑیوں اور کھیل دونوں کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔

اے آئی پی ایس ایشیا کے سیکرٹری جنرل اور پاکستان سپورٹس رائٹرز فیڈریشن کے صدر امجد عزیز ملک نے خیبرپختونخوا سپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فیڈریشن کے زیر اہتمام ملک بھر کے تمام یونٹس میں عالمی سپورٹس جرنلسٹس ڈے کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی گئیں تاکہ کھیلوں کے صحافیوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے،انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے سپورٹس رائٹرز گزشتہ کئی دہائیوں سے کھیلوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور صوبے کا مثبت تشخص اجاگر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے سپورٹس جرنلزم کے شعبے کو بھی متاثر کیا ہے، اس لیے صحافیوں کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے سپورٹس صحافیوں پر زور دیا کہ وہ مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں اور کھیلوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ ملک اور صوبے کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں اپنا موثر کردار ادا کرتے رہیں۔سپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عاصم شیراز نے کہا کہ پشاور کے صحافیوں کو بین الاقوامی صحافیوں کے برابر تربیت دلانے کے لئے اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں، ہر سال کئی صحافیوں کو بین الاقوامی سطح پر کھیلوں کی کوریج کے لئے بھیجا جاتا ہے علاوہ ازیں تربیتی سیشن کے ذریعے انہیں کھیلوں کے شعبے میں نئی صلاحیتوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں کھیلوں کے شعبے سے وابستہ صحافیوں کا کردار بڑھ گیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا دارے صحافیوں کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت دے۔







