پشاور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے بی آئی ایس پی کٹوتی روک دی

پشاور ہائیکورٹ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رقم وصول کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سے کٹوتی کے خلاف دائر 58 مختلف رٹ درخواستیں نمٹاتے ہوئے درخواست گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس ضمن میں پشاور، مردان اور ڈی ائی خان کے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ریجنل دفاتر میں باقاعدہ طور پر تمام ریکارڈ جمع کریں اور متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ 60 دن کے اندر اندر درخواست گزاروں کے کوائف کا جائزہ لیکر قانون کے مطابق فیصلہ کریں تاہم اس دوران ان کے پنشن اور تنخواہوں سے کسی قسم کی کٹوتی نہ کی جائے ۔جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات پر مشتمل دو رکنی بنچ نے محبت شاہ سمیت 58 مختلف رٹ درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کے مطابق ان کے اہل خانہ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رقوم وصول کی تاہم اب انکی تنخواہوں سے یکمشت کٹوتی کی جاری ہے جو ان کے لئے مسائل پیدا کررہے ہیں انہوں نے عدالت کوبتایا کہ ایک کلاس فور کی تنخواہ پچاس ہزار روپے ہے جبکہ ان سے 25 سے 30 ہزار روپے کٹوتی کی جاری ہے حالانکہ جب انکے اہل خانہ نے رقوم وصول کی تو وہ تین ہزار روپے اور پانچ ہزار روپے کی حساب سے وصول کی تھی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اس پر سود بھی لگایا گیا ہے جو کہ درست نہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق درخواست گزاروں نے خود ان سے فائدہ حاصل نہیں کیا اس لئے ان سے کٹوتی درست نہیں۔ دوسری جانب اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اکبر یوسف خلیل اور نے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیگل ایڈوائزر نے عدالت کوبتایا کہ پشاور ہائیکورٹ کے پاس براہ راست یہ رٹ درخواستیں دائر نہیں ہو سکتی بے کیونکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 2010 کے قانون کے سیکشن 21 کے تحت پہلے درخواست گزاروں کو اگر اس کٹوتی سے کوئی مسئلہ ہے تو اپنی اعتراضی درخواست بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پاس جمع کریں اس لئے ضروری ہے کہ پہلے یہ وہاں پر جائیں اور اپنی شکایت درج کریں اگر وہاں سے ان کو کچھ ریلیف نہیں ملتا تو پھر اس کے خلاف وہ ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں ۔ تفصیلی فیصلہ جسٹس اعجاز انور نے لکھا ہے ۔فیصلے کے مطابق ان رٹ پٹیشنز کو اگے بڑھانے سے پہلے بے نظیر انکم پروگرام کے لیگل ایڈوائزر نے جو نقطہ اٹھایا ہے وہ درست ہے لہذا ضروری ہے کہ درخواست گزار پہلے پشاور ڈی آئی خان اور مردان کے ریجنل دفاتر میں اپنے شکایات جمع کریں اور ان کے ساتھ مکمل دستاویز فراہم کریں کیونکہ ہائیکورٹ میں 19 رٹ درخواستوں کے ساتھ کسی طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ موجودہ درخواست گزار نوکری پر ہیں ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں یا کسی دوسرے پیشے سے وابسطہ ہیں لہذا ہائیکورٹ اس مرحلے پر اس کا تعین نہیں کرسکتی ۔فیصلے کے مطابق ضروری ہے کہ درخواست گزار پہلے متعلقہ ریجنل دفاتر میں اپنے کاغذات جمع کریں جس پر متعلقہ حکام 60 دن کے اندر فیصلے کرنے کا پابند ہوگا تاہم اس دوران وہ درخواست گزاروں کے تنخواہوں سے کسی قسم کی کٹوتی کے مجاز نہیں ہونگے انہی ابزرویشن کے ساتھ پشاور ہائیکورٹ نے 58 رٹ درخواستیں نمٹا دیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed