حریت رہنما یاسین ملک کیخلاف 36برس بعد کیس میں چارج شیٹ دائر

بھارت کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک اور چار دیگر افراد کے خلاف مقبوضہ کشمیر کی پولیس کے خصوصی ونگ سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی(ایس آئی اے) نے چارج شیٹ دائر کر دی ہے۔ بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق یہ چارج شیٹ گزشتہ روز دائر کی گئی ہے۔یہ چارج شیٹ 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سِرلا بھٹ کے اغوا اور وحشیانہ قتل کے مقدمے میں 36 برس بعد پیش کی گئی ہے۔سرلا بھٹ شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(سکمز)میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں جنہیں اپریل 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہ وادی میں ماری جانے والی اولین کشمیری پنڈتوں میں سے ایک تھیں۔ایس آئی اے کے حکام کے مطابق طویل اور تفصیلی تحقیقات سے یہ بات حتمی طور پر ثابت ہوئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی انفرادی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت اور کنٹرول میں رچی گئی ایک منظم اور وسیع تر دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس جرم کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں جے کے ایل ایف کے اس وقت کے چیف کمانڈر یاسین ملک، خورشید احمد چلکو، عبدالحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو ملوث پائے گئے ہیں۔ایس آئی اے کے مطابق مقتولہ سرلا بھٹ کو سری نگر کے علاقے عمر کالونی، مالباغ میں شدید ترین جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد خودکار رائفل سے فائرنگ کر کے بیدردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔پولیس رپورٹ کے مطابق نامزد پانچ ملزمان میں سے تین (عبدالحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو) اب انتقال کر چکے ہیں۔ یاسین ملک ،جنہیں 2022 میں عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی، اس وقت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔یاسین ملک کو 1989 میں اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ کی بیٹی کے اغوا اور 1990 میں انڈین فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے جیسے دیگر بڑے مقدمات کا بھی سامنا ہے۔دوسری جانب مبینہ طور پر گولی چلانے والے مفرور ملزم خورشید احمد چلکو کے خلاف اشتہاری مجرم کے طور پر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ سرحد پار آزادکشمیر فرار ہو چکے ہیں۔جموں و کشمیر پولیس نے اس 737 صفحات پر مشتمل ضخیم چارج شیٹ کو خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک تاریخی سنگِ میل اور فیصلہ کن موڑ قرار دیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دہائیوں پر محیط زبانی، دستاویزی، فرانزک اور سائنسی شواہد کو یکجا کر کے یہ چارج شیٹ تیار کی گئی ہے۔پولیس نے اپنے بیان میں کہا یہ چارج شیٹ ایک واضح اور سخت پیغام دیتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ جرائم مٹ نہیں جاتے اور وقت کبھی بھی دہشت گردی کے لیے ڈھال نہیں بن سکتا۔ چاہے کتنے ہی سال کیوں نہ بیت جائیں، معصوموں کا خون بہانے والے قانون کے کٹہرے میں جوابدہ رہیں گے۔اس کیس میں ملزمان پر رنبیر پینل کوڈ (آر پی سی )، ٹیررسٹ اینڈ ڈسرپٹیو ایکٹیویٹیز (پریونشن) ایکٹ ٹاڈا اور انڈین آرمز ایکٹ کی متعدد سنگین دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی ماضی کے ادھورے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے حکومتی عزم کا عکاس ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں مقیم یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے منگل کو ایک بیان میں اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 36 سال پرانے کیس میں نئی چارج شیٹ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ فوت شدہ افراد کے نام پر مقدمہ بھارتی عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ یاسین ملک کی عمر قید کو سزائے موت میں بدلنے کی کوشش انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed