سانحہ گل پلازا کی تحقیقاتی رپورٹ میں کمیٹی کے صدر تنویر پاستا اور 11 سالہ بچے سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔سانحہ گل پلازا کیس میں پولیس نے مقدمے کے چالان کے ساتھ تحقیقاتی رپورٹ پراسیکیوشن کو جمع کروا دی ہے تاہم ذرائع نے بتایا کہ گل پلازا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ چالان کا حصہ نہیں بنائی گئی ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پنجاب فرانزک لیب کی رپورٹ میں کسی بھی قسم کے دھماکا خیز مواد کی موجودگی کی نفی کرتے ہوئے گل پلازا کی آگ کو حادثاتی قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ آگ کی شروعات دکان نمبر 193 سے ہوئی جہاں دکاندار نعمت اللہ اکثر اوقات اپنی دکان 11 سالہ بیٹے حذیفہ کے سپرد کر کے چلا جاتا تھا۔تحقیقات کے مطابق حذیفہ کی جانب سے ماچس کی تیلیاں جلا کر پھینکنے سے مصنوعی پھولوں میں آگ بھڑک اٹھی جس پر نعمت اللہ اور حذیفہ دونوں کو غفلت اور لاپروائی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔تحقیقاتی رپورٹ میں دکاندار نعمت اللہ، اس کے 11 سالہ بیٹے حذیفہ، گل پلازا کمیٹی کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جنرل سیکریٹری محمد امین اور جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان کو ملزم نامزد کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے تمام ملزمان کو مفرور قرار دے دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کم عمر بچے کو دکان پر کام سے نہ روکنا مارکیٹ یونین کی غفلت تھی، رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے بعد مارکیٹ یونین کی جانب سے نہ تو بر وقت ایمرجنسی اطلاع دی گئی اور نہ ہی امداد طلب کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گل پلازا کے تمام گیٹ بند تھے اور یونین کی جانب سے انہیں بر وقت نہیں کھلوایا گیا جس کے باعث لوگوں کو باہر نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تحقیقات کے مطابق یونین کے صدر تنویر پاستا نے کے الیکٹرک کو فون کر کے بجلی بند کروائی جس کے نتیجے میں اندھیرا چھا گیا اور متعدد افراد مارکیٹ کے اندر پھنس گئے۔تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ سانحہ گل پلازا میں 72 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 4 لاشوں کی باقیات تاحال کسی نے وصول نہیں کیں۔مزید برآں تحقیقات کے دوران 4 عینی شاہدین کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔







