ایران امریکہ حملے جاری,ایک دوسرے کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانے بنانے کے دعوے

امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ہفتے کے روز پاناما کے پرچم بردا رجہاز پر ڈرون حملے کے بعد ایران پر نئے حملے کیے ہیں جس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ کویت اور بحرین میں امریکہ کے آٹھ فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے ہیں۔ عالمی میڈیارپورٹس کے مطا بق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام ) کا کہنا ہے کہ اس نے تجارتی جہاز رانی کے خلاف مسلسل جارحیت کے جواب میں ایران بھر میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فوجی سازوسامان، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی تنصیبات اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز شامل تھے۔ سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کو جنگ بندی معاہدے کی پابندی کا موقع دیا گیا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اور پانامہ کے پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی کیکو پر ڈرون حملہ کیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہاہے کہ آبنائے ہرمز میں پانامہ کے پرچم بر دار ٹینکر جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں ایران میں متعدد فوجی اہداف پر فضائی کارروائی کی ہے۔ فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا،کارروائیاں صدر ٹرمپ کی ہدایت پرکی گئی ہیں۔امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر حملے کی ویڈیو بھی جاری کردی ۔ ادھر ایران پر امریکا کے فضائی حملے اور ایران کے جوابی حملوں کے بعد امریکی عہدیدار نے ایک بیان میں کہا کہ ایران نے بحرین اور کویت سمیت پڑوسی ممالک پر متعدد ڈرون اور میزائل داغے، مشرق وسطی میں امریکی فوجی اہلکاروں کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں، حملے میں امریکی تنصیبات کو کسی بڑے نقصان کی بھی کوئی اطلاع نہیں۔ تازہ حملوں کے اعلان کے فورا بعد امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ بہت ممکن ہے کہ تہران کبھی سبق نہیں سیکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی طیاروں نے ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں اور ساحلی ریڈار سائٹس پر حملے کیے۔صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب ہمارے لئے مزید تحمل کا مظاہرہ کرنا ممکن نہ رہے اور ہمیں وہ فوجی کارروائی مکمل کرنی پڑے جس کا ہم نے کامیابی سے آغاز کیا تھا اور اگر ایسا ہوا تو ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ دوسری جانب امریکی حملوں کے بعد کے گھنٹوں میں کویت اور بحرین دونوں نے اطلاع دی کہ ان کے فضائی دفاعی نظام فعال کر دئیے گئے ہیں۔کویتی مسلح افواج نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کویت کے فضائی دفاعی نظام اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور عوام سے سکیورٹی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔بحرین کی وزارتِ داخلہ نے شہریوں سے کہا کہ وہ پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقامات کا رخ کریں۔ادھر پاناما کے پرچم بردار جہاز پر حملے کے جواب میں ایران پر تازہ ترین امریکی کارروائی کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اس خطے میں امریکہ کے آٹھ فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے ہیں۔ایران کے سرکاری میڈیا ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنی کارروائیوں کو ایرانی سرزمین کے خلاف امریکی جارحیت کی ردِعمل میں فیصلہ کن جواب قرار دیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ اس کی بحریہ اور فضائیہ نے مشترکہ طور پر یہ کارروائیاں اتوار کو مقامی وقت کے مطابق رات 2:00 بجے سے 3:00 بجے کے درمیان کی ہیں، جس میں آٹھ اہم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کویت میں علی السالم ایئر بیس اور بحرین میں سلمان پورٹ پر قائم امریکی پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر شامل ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سخت بیان جاری کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔آئی آر جی سی بحریہ کے کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے جنوبی شہر سیرک پر امریکی حملہ آبنائے ہرمز پر ایران کی برتری کو ختم نہیں کر سکتا۔بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں پر فائرنگ کا مقصد دیگر جہازوں کو یہ یاد دلانا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے واضح اور مقررہ راستے پر عمل کرنا ضروری ہے۔پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے مزید کہا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کا معاملہ الگ ہے اور وہ آنے والے دنوں میں جہنم کا سامنا کریں گے۔ دریں اثنا ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے مفاہمتی یادداشت کی خلاف کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed