محمدسلیمان خان
پاکستان فٹبال فیڈریشن کی جانب سے عدیل رزکی کو یکم جولائی 2026سے نیا ٹیکنیکل ڈائریکٹر مقرر کیے جانے کے فیصلے کے بعد ایک نیا تیکنیکی اور آئینی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز اور اسپورٹس جرنلسٹ محمد سلیمان خان کے تکنیکی سوالات پر میڈیا سیل کی جانب سے دیے گئے جوابات میں واضح تضاد نے فیفا گڈ گورننس قوانین کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔پی ایف ایف کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ عدیل رزکی جو اس وقت پی ایف ایف کانگریس کے رکن بھی ہیں، ٹیکنیکل ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کانگریس کی اپنی ذمہ داری سے الگ ہو جائیں گے۔پریس ریلیز میں خود عدیل رزکی کا بیان بھی شامل تھا جس میں انہوں نے کہاکہ اب ٹیکنیکل ڈائریکٹر کی نئی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے میں اپنے سابقہ عہدوں سے الگ ہو جائوں گا،فیفا کوڈ آف ایتھکس کے آرٹیکل 19 (مفادات کا ٹکرائو)اور گڈ گورننس کے تحت جب ڈیلی کسوٹی کی جانب سے پی ایف ایف کے میڈیا ڈائریکٹر سے یہ تکنیکی سوال پوچھا گیا کہ ایک ایکٹو کانگریس ممبر (جو قانون ساز اور ووٹر ہو)استعفیٰ دیئے بغیر فیڈریشن کی تنخواہ دار جاب کے لیے کیسے اپلائی اور شارٹ لسٹ ہو سکتا ہے؟ تو میڈیا سیل نے اپنی ہی پریس ریلیز کے برعکس یوٹرن لیتے ہوئے یہ دعویٰ کر دیا کہ عدیل رزکی جاب پر اپلائی کرنے سے پہلے ہی استعفے دے چکے تھے اور اس پوزیشن کے لیے باقاعدہ اشتہار دیا گیا تھا۔آئینی تضاد پر کھڑے ہونے والے سنگین سوالات:پی ایف ایف میڈیا سیل کے اس جواب نے فیڈریشن کو مزید تکنیکی مشکل میں ڈال دیا ہے اور فٹبال حلقوں میں یہ سوالات گونج رہے ہیںکہ اگر عدیل رزکی جاب کے لیے اپلائی کرنے سے پہلے ہی استعفیٰ دے چکے تھے،تو پی ایف ایف نے اپنی آفیشل پریس ریلیز میں مستقبل کا حوالہ کیوں دیا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد الگ ہوں گے؟کیا پی ایف ایف نے پریس ریلیز میں غلط بیانی کی یا اب میڈیا سیل فیفا اور اے ایف سی کی ممکنہ قانونی کارروائی اور مفادات کے ٹکرائوکے کیس سے بچنے کے لیے استعفے کا نیا مئوقف گھڑ رہا ہے؟ذرائع کے مطابق ایک ہی وقت میں فیڈریشن کی پالیسی ساز باڈی کا حصہ رہنا اور اسی دوران ٹیموں کے کوچ اور پھر ٹیکنیکل ڈائریکٹر جیسے اہم آپریشنل عہدے پر اثر انداز ہونا فیفا کے ‘اختیارات کی علیحدگی کے بنیادی اصول کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ فٹبال ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تضاد کے بعد اب یہ معاملہ فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے گورننس اور ایتھکس ڈپارٹمنٹ کے سامنے اٹھایا جائے گا تاکہ پاکستان فٹبال میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔







