ہراسگی کیس میں خاتون کو ہیومن رائٹس کمیشن سے رجوع کی ہدایت

پشاور ہائی کورٹ نے ایک سیشن جج کیساتھ تعینات کانسٹیبل کی جانب سے خاتون درخواست گزار اور اس کے اہل خانہ کو پولیس کے ذریعے ہراساں کرنے کیخلاف دائر درخواست پر خاتون کو ہیومن رائٹس کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فقیرآباد پولیس سٹیشن سے متعلقہ کا نسٹیل کا ریکارڈ طلب کرلیا ۔کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔سماعت کے دوران متاثرہ خاتون عدالت میں پیش ہوئیں اور مقف اختیار کیا کہ ان کا بھانجا ایک سیشن جج کے ساتھ کانسٹیبل کے طور پر ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے تاہم وہ اور اس کے اہل خانہ مبینہ طور پر انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ خاتون نے بتایا کہ ان کے گھر پر بار بار پولیس چھاپے مارتی ہے اور اہل خانہ کو تنگ کیا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ان کا تعلق کس علاقے سے ہے اور انہیں کس وجہ سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اس پر خاتون نے بتایا کہ ان کا تعلق چارسدہ سے ہے جبکہ وہ اس وقت بشیر آباد میں مقیم ہیں۔ ان کے بقول بعض افراد کو ان کے بچوں سے مسئلہ ہے اور انہیں مزدوری کرنے سے بھی روکا جاتا ہے جس پر چیف جسٹس جسٹس نے کہا کہ آئندہ سماعت پر متعلقہ افراد کو طلب کیا جائے گا اور درخواست گزار کو ہراساں نہیں ہونے دیا جائے گا۔ عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ فقیر آباد پولیس اسٹیشن سے متعلقہ کانسٹیبل کا مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے۔عدالت نے متاثرہ خاتون کو ہیومن رائٹس کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed