مینا خان آفریدی کو سفر سے روکنے پر ڈائریکٹر امیگریشن آج طلب

پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کو عدالت کے حکم کے باوجود ائیرپورٹ پر آف لوڈ کرنے اور اسکا نام سفری پابندی سے متعلق دوسری لسٹ میں ڈالنے کیخلاف دائر توہین عدالت کی درخواست اور دوسری رٹ کی سماعت کے بعد ڈائریکٹر ایمیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو آج ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیدیا۔طلب ۔توہین عدالت اور رٹ درخواست پر سماعت جسٹس محمد اعجاز خان اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت میناخان کے وکیل بشیرخان وزیر ایڈوکیٹ نے عدالت کوبتایا کہ اس کے موکل صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن ہے جنہیں جرمن ایمبیسی نے وہاں یونیورسٹی کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے۔تا ہم اسکو معلوم ہوا کہ اسکا نام سفری پابندی کے لسٹ میں شامل ہے جس کے خلاف اس نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور عدالت نے درخواست گزار کا نام پی این آئی ایل سے نکالنے کا حکم دیا اس ضمن میں حکومت نے خود رپورٹ پیش کی کہ درخواست گزار کا نام کسی اور لسٹ میں نہیں ہے تا ہم جب وہ ائیرپورٹ پہنچے تو ان کو بتایا گیا کہ آپ کا نام ای سی ایل، پی سی ایل میں ہے اور پاسپورٹ بھی بلاک ہے،عدالتی احکامات کے باوجود ان کو روکا گیا، جس پر جسٹس اعجازخان نے کہا کہ عدالت نے نام نکالنے اور بیرونی ملک جانے کا حکم دیا تو پھر کیسے ان کو روکا؟ عدالتی احکامات کے بعد ان کا نام دیگر لسٹ میں کیسے شامل کیا گیا۔؟ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس میں جواب جمع کیا ہے، وکیل درخواست گزار نے عدالت کوبتایا کہ ابھی تک جواب فائل پر موجود نہیں یے، عدالت نے ڈائریکٹر ایمیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو آج ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت اج تک کیلئے ملتوی کردی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed