شوہر قتل کیس میں بیوی اور ساتھی کی سزائے موت کالعدم،بری کرنیکا حکم

شعیب جمیل

پشاورہائیکوٹ نے شوہر کے قتل کیس میں بیوی اور اسکے مبینہ ساتھی کی سزائے موت کالعدم قراردیتے ہوئے دونوں کو کمزور تفتیش کی بناپر مقدمے سے بری کرنے کاحکم دیدیا۔ جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ پرمشتمل بنچ نے ملزموں کی اپیل پر سماعت کی۔ ملزموں کی جانب سے کیس کی پیروی شبیرحسین گیگیانی اورنعمان لودھی ایڈوکیٹس نے کی۔عدالت کو بتایاگیاکہ 23مئی 2023کو تھانہ فقیرآباد کی حدود میں وقار علی کوقتل کیا گیا جس پرابتدامیں نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ بعد میں سی ڈی آر کے ذریعے معلوم ہواکہ مقتول کی بیوی مسما(ن)کا ملزم ظاہر کیساتھ مبینہ تعلق ہے اور وقوعہ سے پہلے اوربعد میں بھی وہ ملزم سے رابطے میں رہی جس پر دونوں کو گرفتار کرکے انکے موبائل فونز قبضے میں لیے گئے ۔ ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبال جرم بھی کیا جبکہ پستول کا ایف ایس ایل رپورٹ بھی مثبت آیا ۔سیشن کورٹ نے دونوں کوجرم ثابت ہونے پر سزائے موت کی سزائی جس کیخلاف انہوں نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی۔ سماعت کے دوران شبیر گیگیانی ایڈوکیٹ نے دلائل دیئے کہ اس کیس میں اہم شہادت سی ڈی آرکی تھی تاہم ان موبائل سمز کی ملکیت کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ یہ کس کی تھیں۔اسی طرح دونوں کی گرفتاری جس روز ظاہر کی گئی وہ اس سے دوروزقبل گرفتار ہوئے اوراقبال جرم کیلئے ملزمہ کی 4سالہ اور 2سالہ بیٹوں کو تھانے میں رکھا گیاتاکہ اس پر اعتراف جرم کیلئے مبینہ طور پر دباو ڈالاجاسکے۔انہوں نے بتایاکہ مدعی نے یہ بات مجسٹریٹ کے سامنے خود تسلیم کی جس سے اقبال جرم کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے ۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پرملزموں کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں مقدمے سے بری کرنے کاحکم دیدیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed