آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد متعدد اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا،فنانس بل کے مطابق ان اشیا کو تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے سے 70 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوگی،جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ سے دودھ، ڈیری مصنوعات، مٹھائیاں،جام، جیلی، کیچپ، مصالحہ جات، خوردنی تیل، گھی، کراکری، ہیئر آئل، شیمپو،جوتے، پرفیوم، باڈی اسپرے، بیکری آئٹم اور پلاسٹک کی گھریلو اشیاسمیت سینیٹری مصنوعات بھی مہنگی ہو جائیں گی ،اس کے علاوہ سوٹ کیس،کیمرے،کچن ویئر، سفری بیگ، ای سگریٹ ، زرعی ادویات، جراثیم کش مصنوعات مہنگی ہوجائیں گی۔پرتعیش الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح میں اضافے سے 25 ارب روپے حاصل ہوں گے، صنعتی اور تجارتی درآمد کنندگان کے درمیان منافع کے فرق کو ختم کرنے سے قومی خزانے میں 30 ارب روپے کے اضافی ٹیکس وصول ہوں گے۔







