خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی اسمبلی میں 3 ماہ کیلئے عبوری بجٹ پیش کرنے غور شروع کردیا ۔ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بجٹ کے متبادل آئینی امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں آرٹیکل 122، 123 اور 125 کے تحت ووٹ آن اکائو نٹ اسمبلی میں پیش کرنے کی تجویز زیر بحث آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ پارلیمانی پارٹی میں زیر غور تجاویز پر قانونی مشاورت کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کی منظوری حاصل نہیں ہو جاتی بجٹ پاس نہیں کیا جائے گا۔ایک بیان میں وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ بجٹ کے حوالے سے حتمی فیصلہ عمران خان کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ وزیراعظم نے ایک اجلاس کے بعد تمام وزرائے اعلی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کی ویڈیو بنائی گئی، میں ملاقات میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا ہوا تھا ، ویڈیو بنانے والا باہر چلا گیا تو اسے دوبارہ بلایا گیا، جس کے بعد وزیراعظم نے بھی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے کا انداز اختیار کیا اور ملاقات کی ویڈیو دوبارہ ریکارڈ کی گئی۔وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارا ایک رکن بھی ادھر ادھر نہیں ہوگا۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کا بجٹ 15 جون کے بعد پیش ہونے کا امکان ہے اور اس سلسلے میں حکومتی حلقوں میں مشاورت جاری ہے۔







