صوبائی دارالحکومت پشاور پشاور میں تنخواہوں وپنشن عدم ادائیگی کے خلاف میٹروپولیٹن اور ٹی ایم اے ملازمین سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا، ٹائر جلا کر سڑک بند کر دی جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، تاہم ڈی جی کی مظاہرین کو تنخواہوں کی ریلیز کی یقین دہانی پر احتجاج کل تک موخر کر دیا گیا۔کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ اور ٹی ایم اے ملازمین نے تنخواہوں وپنشن عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سٹی آفس سے باچا خان چوک تک ریلی نکالی، مظاہرین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی اور ٹائر جلا کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔مظاہرے کے دوران اہم شاہراہ بند ہونے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی جبکہ بی آر ٹی سروس بھی متاثر ہوئی۔ مظاہرین کے احتجاج کے باعث متعدد گاڑیاں اور بی آر ٹی بسیں ٹریفک کے رش میں پھنس گئیں جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ مئی 2026 کی تنخواہیں اور پنشن تاحال ادا نہیں کی گئیں، جس کے باعث ملازمین شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ملازمین نے شکوہ کیا کہ عیدالاضحی تنخواہوں اور پنشن کے بغیر گزارنی پڑی، گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین بھی پنشن نہ ملنے سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ملازمین نے دعوی کیا کہ صوبائی وزیر بلدیات سے متعدد ملاقاتوں اور مذاکرات کے باوجود تنخواہوں اور پنشن کے اجرا کے حوالے سے کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی، ان کا کہنا تھا کہ بارہا یقین دہانیاں کرائی گئیں لیکن تاحال واجبات ادا نہیں کیے گئے۔احتجاجی ملازمین نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر تنخواہیں اور پنشن فوری طور پر جاری نہ کی گئیں تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اہم شاہراہیں بند کر دی جائیں گی۔ مظاہرین نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے مسائل کے حل کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔







