صوبائی دارالحکومت پشاور کے علمی، ادبی، ثقافتی اور سماجی حلقوں سے تعکق رکھنے والی شخصیات نے حکومت پاکستان کی جانب سے ملنے والے سول ایوارڈز کی تقسیم کو شفاف او غیر جانبدار بنانے لئے صوبائی محکمہ ثقافت کو ایسی کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا جو علم و ادب اور فنون لطیفہ سے مکمل آگہی رکھتی ہو تاکہ سول ایوارڈز کے لئے نامزدگیاں میرٹ پر کی جا سکیں۔چائنہ ونڈو کے زیراہتمام ماضی کے نامور اداکار سید سردار بادشاہ اور ساجدہ گل کو ان خدمات ہر خراج تحسین پیش کرنے کی تقریب میں ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی

جس؟میں وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے میں فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔کئی دہائیوں تک فن کے فروغ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرنے والوں کو سول ایوارڈز کے لئے نامزد نہیں کیا جاتا جبکہ غیر مستحق افراد کو ایوارڈز سے نوازا؟جا رہا ہے۔ سید سردار بادشاہ نے کہا کہ انہوں نے ایک ہزار ٹی وی اور 12 سو ریڈیو پروگرام کئے انہیں 28 برس قبل تمغہ امتیاز دیا گیا اور پھر کبھی کسی ایوارڈ کے لئے نامزد نہیں کیا گیا جبکہ پاکستان کے دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والوں کو مزید کئی ایوارڈز دئیے گئے ۔

اداکارہ ساجدہ گل کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں محکمہ کلچر نے انہیں بہت مایوس کیا ہے انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی 25 برس ریڈیو اور ٹی وہ کو دئیے لیکن اج تک انہیں ایوارڈ کے لئے نامزد نہیں کیا گیا جو صوبائی حکومت اور محکمہ ثقافت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ساجدہ گل نے کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو فنکار برادری ختم اور علم و ادب کا شعبہ دم توڑ دے گا۔ چائنہ ونڈو کے زیراہتمام فنکاروں کی ستائش کے لئے منعقدہ تقریب پشاور میں فن و ثقافت کی آبیاری کے لئے منعقدہ ایک منفرد تقریب تھی جس میں سید؟سردار بادشاہ نے اپنی فنی کئیریر پر سیر حاصل گفت گو کی انہوں نے اپنی فنی زندگی کے مختلف زایوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ اس صوبے نے انہیں پہچان دی اور انہوں نے اداکاری کے علاوہ سرکاری ملازمت کے دوران تنظیمی سطح پر بھی خدمات انجام دیں، کئی ممالک کے دورے کئے، فلاحی شعبے کو اپنایا اور خاص طور پر یوتھ کو پروان چڑھانے کے لئے شبانہ روز کام کیا ۔

انہوں نے کئی مشکلات کا زکر کرتے ہوئے حکومتی بے حسی پر اظہار افسوس کیا اور فنکار برادری کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ساجدہ گل نے کہا کہ وہ ملازمت کے لئے پاکستان ٹیلی ویژن مرکز گئیں ملازمت تو نہ ملی مگر وہ اداکارہ بن گئیں ۔انہوں نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سینکڑوں ڈراموں میں پرفارم کیا۔فرانس میں مقیم پاکستانی سماجی شخصیت راجہ افراسیاب خان نے بھی دونوں فنکاروں کو ان کی ناقابل فراموش خدمات پر شاندار خراج تحسین پیش کیا اور چائنہ ونڈو کی جانب سے سید سردار بادشاہ اور ساجدہ گل کو شیلڈز پیش کیں ۔تقریب کے شرکا نے ماضی کی نامور فنکار جوڑی سے سوالات بھی کئے اور انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا۔ منتظمین کے مطابق اس قسم کے پروگرام ہر ماہ منعقد کئے جائیں گے تاکہ نئی نسل کو اپنے عظیم فنکاروں سے ملاقاتوں کے مواقع میسر آئیں







