سپریم کورٹ نے بار بار میکے سے پیسے منگوانے اور بدترین تشدد کرنے پر شوہر کو قتل کرنے والی مجرمہ افشاں سحر کی سزا میں کمی کردی۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے شوہر کے روز روز کے تشدد اور میکے سے پیسے منگوانے کے مطالبے سے تنگ آ کر اسے قتل کرنے والی مجرمہ افشاں سحر کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے اس کی عمر قید کی سزا کم کر کے 14 سال قید میں تبدیل کر دی ہے۔کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے کی، سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "عموما معاشرے میں شوہر ہی بیوی کو قتل کرتا ہے، یہ میں نے پہلا کیس دیکھا ہے جس میں بیوی نے اپنے شوہر کو قتل کر دیا۔دورانِ سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ کیا مجرمہ افشاں سحر نے اپنے بیان میں جرم کا اعتراف کیا تھا؟ جبکہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اس کیس میں مجرمہ کے دو بھائی بھی نامزد تھے، تاہم انہیں بری کر دیا گیا ہے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر صرف پراسیکیوشن کے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے تو تینوں ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔مجرمہ افشاں سحر کے وکیل نے عدالت کو واقعے کے تلخ حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول شوہر بالکل بیروزگار تھا اور وہ مسلسل افشاں سحر کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتا اور میکے سے پیسے منگوانے پر مجبور کرتا تھا۔وکیل کا کہنا تھا کہ مجرمہ کے 4 بچے تھے اور ان کی مالی مدد عموما افشاں سحر کی والدہ ہی کیا کرتی تھیں۔ واقعے کے روز جب مجرمہ کی والدہ نے مزید پیسے دینے سے انکار کیا، تو شوہر نے طیش میں آ کر افشاں سحر پر شدید ترین تشدد شروع کر دیا۔وکیلِ صفائی نے مئوقف اپنایا کہ اس موقع پر مجرمہ کی عزت اور جان کو خطرہ تھا، جس پر اس نے دفاعی ردِعملکا اظہار کیا۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے جملہ کسا کہ "4 بچے پیدا کر لیے، ابھی بھی عزت کو خطرہ تھا؟پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تلخ کلامی اور تشدد کے دوران مجرمہ نے شوہر کے سر پر وزنی شے سے وار کیا، جس کے نتیجے میں گہرا زخم آنے کے باعث اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔وکیلِ صفائی نے عدالت سے رحم کی اپیل کرتے ہوئے استدعا کی کہ مجرمہ سال 2016 سے جیل میں بند ہے اور تقریبا 10 سال کی طویل قید کاٹ چکی ہے، اس کا کوئی مجرمانہ ماضی نہیں ہے بلکہ وہ حالات کا شکار ہوئی۔سپریم کورٹ نے تمام شواہد اور مجرمہ کی جیل کی مدت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عمر قید کی سزا ختم کر کے اسے 14 سال قید میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔







