ضلع ہنگو میں مبینہ طور پر غیر معیاری مشروب سٹنگ کے استعمال سے تین افراد کے جاں بحق اور چار بچوں کے شدید متاثر ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ، فوڈ سیفٹی حکام اور محکمہ خوراک حرکت میں آ گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر ہنگو کے جاری کردہ بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ جب تک مشروب کے نمونوں کا سائنسی اور تکنیکی تجزیہ مکمل نہیں ہو جاتا، احتیاطی تدابیر کے طور پر اس کے استعمال سے گریز کیا جائے۔فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے متعلقہ نمونے لیبارٹری تجزیے کے لیے بھجوا دیے ہیں۔ حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔معاون خصوصی برائے خوراک ڈاکٹر محمد اسرار خان نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر ہنگو بصیر علی رحمن کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے ہنگو اور ٹل بازار میں مختلف دکانوں اور مراکز کے معائنہ کے دوران مشکوک اور غیر معیاری مشروبات ضبط کر کے تلف کردیں اور بعض ہول سیل ڈیلرز کی دکانیں بھی سیل کر دی گئیں۔مقامی ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر مذکورہ مشروب کے استعمال سے اب تک تین نوجوان شاہد اللہ ‘رازیم خان ساکنان کچ بانڈہ اور ندیم سکنہ شناوڑی جان کی بازی ہار چکے ہیں تاہم ان اموات اور مشروب کے درمیان تعلق کی حتمی تصدیق لیبارٹری رپورٹ آنے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی







