پختونوں کا مستقبل ہتھیار نہیں’ شعور اور ہنر سے جڑا ہے’ایمل ولی

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پختونوں کے مسائل کبھی بھی لشکر بنانے یا مسلح گروہ تشکیل دینے سے حل نہیں ہوں گے۔باچا خان مرکز پشاور سے جاری بیان میں مرکزی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا یہ واضح اور اصولی موقف ہے کہ ہم سب ریاست کے آئینی ڈھانچے اور انتظام کے پابند ہیں اور ریاست کے مقابلے میں لشکر کشی یا طاقت کے استعمال سے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ہماری تمام تر جدوجہد اور حقوق کے حصول کی کوششیں ریاست کے آئینی دائرہ کار کے اندر ہی ہیں۔سینیٹر ایمل ولی خان نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں طاقت کے استعمال کا اختیار اور بندوق صرف اور صرف ریاست (سرکار )کے پاس ہونی چاہیے، درحقیقت، غیر سرکاری اور نجی سطح پر بندوق اٹھانے اور مسلح جتھے بنانے کی وجہ سے ہی اس ملک اور بالخصوص ہمارے خطے کے مسائل اس سنگین نہج تک پہنچے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کا پرزور مطالبہ ہے کہ ایسی تمام غیر ریاستی کوششوں، مسلح گروہوں اور لشکروں کی قطعی طور پر کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔سربراہ عوامی نیشنل پارٹی نے کہا کہ اگر حالات کو بدلنے کے نام پر لشکر بنائے جائیں، تو اس کا سب سے پہلا اور سیدھا نقصان خود پختونوں کو ہوتا ہے۔ اس سے ان کا کاروبار، روزگار، معمولاتِ زندگی اور سب سے بڑھ کر ان کی صدیوں پر محیط فکری و سماجی بنیاد تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ لشکر کشی کی باتوں کی بجائے، اس بات پر سنجیدگی سے سوچ بچار کی جائے کہ ہمارے حقیقی مسائل کا پائیدار حل کیا ہے۔جدید تعلیم، نالج اکانومی سینیٹر ایمل ولی خان نے تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جب تک ہم جدید علوم کی طرف نہیں جائیں گے اور اپنے نوجوانوں کی درست فکری تربیت کر کے انہیں انتہا پسندانہ سوچ سے نہیں بچائیں گے، تب تک ہم بحیثیت قوم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ آج کی دنیا میں ترقی کا واحد راستہ نالج اکانومی ہے۔ جب تک ہم بیرونی دنیا کے ساتھ اپنا رابطہ جدید تعلیم اور اس تعلیم سے حاصل ہونے والے ہنر کے ذریعے قائم نہیں کریں گے، تب تک پشتون قوم اپنے موجودہ بحرانوں اور مسائل سے باہر نہیں نکل سکتی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مستقبل جذباتیت اور لشکروں سے نہیں، بلکہ شعور اور ہنر مندی سے جڑا ہے۔بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کے عوام کے ساتھ ہمارا ایک تاریخی اور برادرانہ رشتہ ہے اور ہم ان تک اپنی بات پرامن اور سیاسی و آئینی ذرائع سے پہنچاتے ہیں۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا کسی ایسی بلوچ مسلح یا علیحدگی پسند تنظیم کے ساتھ کوئی تعلق یا رابطہ نہیں ہے جو ریاست سے برسرِ پیکار ہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed