ٹیک کمپنیوں کے خدشات کے باعث وال سٹریٹ میں مندی، امریکی سٹاکس گر گئے

امریکی سٹاک مارکیٹوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جہاں ٹیکنالوجی پر مبنی نیسڈیک انڈیکس اپریل 2025 کے بعد اپنی سب سے بڑی ایک روزہ گراوٹ کا شکار ہوا۔اس خدشے کے بڑھنے کے ساتھ کہ اس سال اب تک ہونے والی مارکیٹ کی بڑھوتری پائیدار نہیں ہو سکتی، اپریل کی ملازمتوں سے متعلق غیر متوقع طور پر مضبوط امریکی رپورٹ نے فروخت کے رجحان کو جنم دیا، اور ہفتے کے اختتام پر بڑی امریکی مارکیٹیں مندی پر بند ہوئیں۔اس ڈیٹا نے سرمایہ کاروں میں یہ خدشات مزید بڑھا دئیے کہ فیڈرل ریزرو شرحِ سود کو زیادہ عرصے تک بلند رکھ سکتا ہے، خاص طور پر اسلئے کہ مہنگائی اب بھی قابو میں نہیں آ رہی۔نیسڈیک انڈیکس 4 فیصد سے زیادہ گر گیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 میں 2.6 فیصد کمی ہوئی اور ڈا جونز صنعتی اوسط 1.35 فیصد نیچے آ گیا۔ڈیجیٹل اثاثوں میں بھی جمعے کو تیزی سے فروخت دیکھی گئی۔ سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن میں نمایاں کمی آئی کیونکہ سرمایہ کاروں نے زیادہ خطرناک اثاثوں سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا۔یہ اچانک کمی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار بلند شرحِ سود سے کس قدر خوفزدہ ہیں۔اگرچہ مضبوط روزگار کا بازار عموما معیشت کے لیے اچھی خبر ہوتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ فیڈرل ریزرو جلد قرضے کی لاگت کم کرنے کا امکان نہیں رکھتا۔میکواری گروپ کے اکنامکس کے سربراہ ڈیوڈ ڈوئل نے کہا کہ جمعے کی روزگار رپورٹ ممکنہ طور پر "حد سے زیادہ اچھی” تھی، خاص طور پر بلند مہنگائی کے تناظر میں۔انھوں نے کہا کہ اس ڈیٹا نے اس امکان کو بڑھا دیا ہے کہ فیڈرل ریزرو اس سال شرحِ سود میں اضافہ کر سکتا ہے، جس نے سٹاک مارکیٹ میں فروخت کو مزید بڑھایا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ سرمایہ کار جو شرحِ سود میں کمی کے منتظر تھے، انہیں فوری طور پر اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنا پڑی۔تاہم، یہ گراوٹ عالمی مارکیٹ میں خوف و ہراس کی علامت نہیں تھی۔ اس کے بجائے، سرمایہ کار ٹیکنالوجی سٹاکس سے نکل کر دیگر شعبوں کی طرف منتقل ہوتے دکھائی دیے، جن کے بارے میں ناقدین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ان کی قدر بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اور وہ 2000 کی دہائی کے اوائل کے ڈاٹ کام ببل کی طرح گر سکتے ہیں۔بڑے سرمایہ کاری فنڈز نے اے آئی اور مائیکروچِپ کمپنیوں سے سرمایہ نکال لیا، جن کے حصص کی قیمتیں حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھی تھیں۔مارکیٹ سے مکمل طور پر نکلنے کے بجائے، سرمایہ کار روایتی طور پر محفوظ سمجھے جانے والے شعبوں کی طرف بڑھ گئے۔ صحت، یوٹیلٹیز اور روزمرہ استعمال کی اشیا جیسے شعبوں میں اضافہ دیکھا گیا، جن میں کرافٹ ہائنز اور کیورگ ڈاکٹر پیپر جیسی کمپنیاں شامل ہیں، کیونکہ سرمایہ کار استحکام کی تلاش میں تھے۔یہ تیز گراوٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کے حصص کس قدر غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔مارکیٹ میں اس گراوٹ پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی روزگار رپورٹ پر منفی ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ مہنگائی پر حد سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔انھوں نے مزید کہا، مجھے امید ہے کہ مارکیٹ یہ سیکھے گی کہ جب اعداد و شمار اچھے ہوں تو مارکیٹ کو اوپر جانا چاہیے، نیچے نہیں۔دوسری جانب، آئندہ ہفتے ٹیکنالوجی اور سیاست توجہ کا مرکز ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے بڑے اے آئی ایگزیکٹوز کو وائٹ ہائو س مدعو کیا ہے تاکہ ایک نئی تجویز پر بات کی جا سکے کہ امریکی حکومت ان کی کمپنیوں میں عوامی حصص حاصل کرے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں عوام کا نقط نظر تبدیل کرنا ہے، تاکہ عام امریکی بھی اے آئی کی کامیابی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed