پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ضم اضلاع کے وکلا کے لئے بار کونسل میں علیحدہ نشستوں سے متعلق دائر رٹ درخواست خارج کردی اور قرار دیا کہ یہ حکومتی پالیسی کے معاملات ہیں عدالت اس ضمن میں مداخلت نہیں کر سکتی کیونکہ اعلی عدلیہ نے عدالتوں کو اس قسم کے فیصلوں میں مداخلت سے روکا ہے کیونکہ عدالت حکومت کو قانون سازی کیلئے ہر معاملے میں ہدایات جاری نہیں کرسکتی۔فاضل بنچ نیگزشتہ روز فواد افضل صافی ایڈوکیٹ کی رٹ کی سماعت کی۔ جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ سابقہ فاٹا کے اضلاع میں وکلا کی تعداد کے نسبت سے انہیں بار کونسل میں نمائندگی دی جانے تھی اور اس کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ جب تک متعلقہ بار کے پاس 100 ممبران رجسٹرڈ نہ ہوں اس وقت تک انہیں ممبر شب نہیں دی جا سکتی انہوں نے عدالت کوبتایا کہ اس وقت متعدد ڈسٹرکٹ اور تحصیل بار میں وکلا کی تعداد 100 سے زائد ہے لیکن ابھی تک بار کونسل نے انہیں علیحدہ ممبر شب نہیں دی جبکہ قومی اسمبلی میں اس حوالے سے قانون سازی کے لئے بل پیش کیا گیا تھا بعد میں اس پر فیصلہ موخر ہو گیا۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اس وقت تو متعدد وکلا پشاور، مہمند اور خیبر سمیت دیگر اضلاع میں ایک ساتھ پریکٹس کررہے ہیں اور وہ ووٹ بھی کاسٹ کررہے ہیں تو ان کی نمائندگی تو پہلے ہی بار کونسل میں ہے اس کے ساتھ ساتھ بار کونسل کے معاملات میں عدالت خود کو محدود رکھتی ہے کیونکہ یہ وکلا کے مسائل ہیں اپ لوگوں کو چاہیئے کہ ادھر جائیں اور اس مسئلے کو حل کریں انہوں نے عدالت کوبتایا کہ اگر ان ممبران کو ان کا قانونی حق نہیں دیا جاتا تو وہ بار کونسل میں نمائندگی سے محروم رہیں گے کیونکہ ضلع مہمند کی سیٹ پشاور میں ایڈجسٹ کی گئی ہے اس طرح خیبر اور دیگر اضلاع کے سیٹس بھی بندوبستی اضلاع میں دیئے گئے ہیں لہذا یہ ضروری ہے کہ بار کونسل میں ضم شدہ اضلاع کیلئے علیحدہ سیٹیں دی جائیں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر رٹ خارج کردی اور قرار دیا کہ یہ پالیسی سے متعلق معاملات ہیں اس میں عدالت کا دائرہ اختیار محدود ہے اس کے ساتھ ساتھ اگر درخواست گزار کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ بار کونسل سے رابطہ کریں







