امریکا کا ایران پر بڑا حملہ’ ریڈار اور ڈرون تنصیبات تباہ

ایرانی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ لبنان اور غزہ کی صورتحال کے باعث تہران نے واشنگٹن کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کا عمل روک دیا ہے۔ایرانی خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق لبنان میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں ایرانی مذاکراتی وفد نے امریکا کے ساتھ جاری رابطے معطل کر دیے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ جب تک لبنان اور غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق اس کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، کسی قسم کے مذاکرات یا سفارتی پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔رپورٹ کے مطابق ایران اور مزاحمتی اتحاد نے خطے میں اپنی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لیتے ہوئے اہم سمندری راستوں سے متعلق بھی منصوبہ بندی کی ہے۔دعوی کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سمیت دیگر محاذوں پر ممکنہ اقدامات زیر غور ہیں، تاہم اس حوالے سے کسی آزاد یا بین الاقوامی ذریعے سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔مبصرین کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی مشرق وسطی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جبکہ خطے میں جاری تنازعات عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام)نے دعوی کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران کے شہر گورک اور جزیرہ قشم میں ایرانی ریڈار اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ یہ کارروائی ایران کی جارحانہ سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی ہے، جن میں بین الاقوامی پانیوں میں ایک MQ-1 ڈرون کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔بیان کے مطابق امریکی افواج نے کارروائی کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام، ایک گرانڈ کنٹرول اسٹیشن اور دو یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کو تباہ کیا، جنہیں خطے میں سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی خطے میں بحری گزرگاہوں کے تحفظ اور جارحانہ خطرات کے جواب میں کی گئی، تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔خطے میں پہلے ہی کشیدگی برقرار ہے اور حالیہ واقعات کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان تنا مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے، جہاں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر براہِ راست حملوں کے دعوے سامنے آئے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ایران کے شہر گورک اور جزیرہ قشم میں ایرانی ریڈار اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی جوابی کارروائی کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے، جہاں سے ایران کے صوبہ ہرمزگان کے جزیرے سِرک پر ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر حملہ کیا گیا تھا۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس کارروائی میں وہ تمام اہداف کامیابی سے نشانہ بنائے گئے جنہیں پہلے سے طے کیا گیا تھا، اور یہ حملہ امریکی کارروائی کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed