انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے تھانہ مچنی گیٹ کی حدود میں بینک ڈکیتی کی واردات میں گرفتار تین ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کا حکم دیتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ کو تحقیقات کا حکم دیدیا اور اسے انکوائری کرنے کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ۔پراسیکیوشن کے مطابق ورسک روڈ پر بینک ڈکیتی اور پولیس آفسر کو قتل کے الزام میں گرفتار تین ملزمان کو 19 مئی کوعدالت میں پیش کیا گیا جس پر انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے تینوں ملزمان کو 6 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالہ کیا تھا ملزمان عماد، شعیب اور عمر پر ورسک روڈ پر نجی بینک میں ڈکیتی کی کوشش کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایڈیشنل ایس ایچ او بہار علی کو شہید کرنے کے مقدمے میں نامزد تھے۔پولیس کے مطابق مچنی گیٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کیا تھا تا ہم اسے جائے وقوعہ لے جا رہا تھا کہ اس دوران نا معلوم موٹر سائیکل سواروں نے راستے میں پولیس اور ملزمان پر فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں فائرنگ سے تینوں زیر حراست ملزمان ہلاک ہوئے، عدالت نے تینوں کی ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کو انکوائری کا حکم دے دیا واضح رہے کہ گرفتار ملزمان کو پولیس جائے وقوعہ پر لے جارہی تھی کہ ملزمان کے دیگر ساتھیوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کی تو تینوں ملزمان متعدد گولیاں لگنے سے موقع پر ہی جان بحق ہوئے پولیس کے مطابق ملزمان ایک اور بینک ڈکیتی میں چوکیدار کو بھی قتل کرنے میں ملوث تھے اور مزید تحقیقات جاری تھی کہ اس دوران یہ واقعہ پیش آیا جبکہ فائرنگ سے پولیس اہلکاروں کو بھی گولیاں لگی تا ہم بلٹ پروف جیکٹس کی وجہ سے وہ بچ گئے۔عدالت نے تمام حقائق معلوم کرکے مجسٹریٹ کو رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کردی۔







