چائنہ ونڈو میں ادبی و فکری محفل سج گئی ،پروفیسر ڈاکٹر زیڈ اے قریشی کی دو کتب کی رونمائی

پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکزکے زیر اہتمام ممتاز براڈ کاسٹر، دانشور، استاد اور ادیب پروفیسر ڈاکٹر زیڈ اے قریشی کی دو اہم کتب آسمان تلے بکھرے موتی اور سکونِ صبح و طلوعِ آفتاب کی سرزمین کی پروقار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین اور سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایازنے کی جبکہ علمی، ادبی، صحافتی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کے آغاز میں پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز،پروفیسر ڈاکٹر عدنان سرور، پروفیسر زیڈ اے قریشی ، ڈاکٹر شاہدہ سردار اور نذیر تبسم نے دونوں کتابوں کی باضابطہ رونمائی کی اپنے خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر زیڈ اے قریشی نے کہا کہ انہیں اپنی سرکاری مصروفیات کے دوران ماضی میں دنیا کے متعدد ممالک کے دورے کرنے کا موقع ملا اور انہی مشاہدات، تجربات اور احساسات کو انہوں نے سفرناموں کی صورت قلم بند کیا۔ انہوں نے اپنی دونوں کتابوں کے پس منظر، تحقیقی و ادبی پہلوؤں اور تصنیفی سفر پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آسمان تلے بکھرے موتی مختلف مشاہدات، یادوں اور فکری احساسات کا مجموعہ ہے جبکہ سکونِ صبح و طلوعِ آفتاب کی سرزمین میں مختلف خطوں، تہذیبوں، ثقافتوں اور انسان دوستی کے پہلوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سفر انسان کے شعور، فکر اور مشاہدے میں وسعت پیدا کرتا ہے اور جب انہی تجربات کو ادب کے قالب میں ڈھالا جائے تو وہ آنے والی نسلوں کے لئے فکری سرمایہ بن جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفرنامہ صرف مقامات کی منظر کشی نہیں بلکہ معاشروں کی نفسیات، لوگوں کے رویوں، تہذیبوں کی روح اور تاریخ کے مختلف پہلوں کو بھی قاری کے سامنے لاتا ہے۔

صدارتی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ یہ امر لائقِ تحسین ہے کہ چائنہ ونڈوعلمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے مسلسل خدمات انجام دے رہا ہے اور اسی سلسلے میں پروفیسر ڈاکٹر زیڈ اے قریشی کی دو اہم کتابوں کی رونمائی کا انعقاد بھی ایک خوش آئند اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کتابوں کے مندرجات پر تفصیلی علمی و تحقیقی اظہارِ خیال کیا جائے تاکہ مصنف نے اپنے اسلوب اور مشاہدات کو جس خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کیا ہے اس پر اکیڈمک سطح پر بھی گفتگو آگے بڑھ سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی ملک، تہذیب یا معاشرے کے سفر کو خوبصورتی، دیانت داری اور فکری گہرائی کے ساتھ تحریر کیا جائے تو وہ سفری ادب کا اہم
سرمایہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے مصنف کو اعلی معیار کے سفرنامے تحریر کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریروں میں مشاہدے کی گہرائی اور اظہار کی شائستگی نمایاں ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ بین الاقوامی تعلقات پشاور یونی ورسٹی کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عدنان سرورنے کہا کہ ایک اچھا سفرنامہ پڑھنے والا خود کو بھی مسافر محسوس کرتا ہے اور مصنف کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں، معاشروں اور تہذیبوں کا سفر کرتا ہے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر زیڈ اے قریشی کے سفرناموں میں ایسی کشش موجود ہے جو قاری کو ابتدا سے آخر تک اپنے سحر میں مبتلا رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تحریروں میں صرف معلومات نہیں بلکہ جذبات، مشاہدات، تہذیبی آگہی اور فکری وسعت بھی موجود ہے، جو قاری کو نئی دنیاوں سے روشناس کراتی ہے۔

ممتاز قانون دان اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایڈووکیٹ معظم بٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر زیڈ اے قریشی کو پاکستان ٹیلی وژن میں خدمات کی انجام دہی کے دوران ایک معتبر مقام حاصل رہا ہے اور انہوں نے ہمیشہ اپنے علم، وقار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے ادارے کا نام روشن کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنف نے جو کچھ دیکھا، محسوس کیا اور تجربہ کیا اسے انتہائی خوبصورتی، دیانت داری اور فکری گہرائی کے ساتھ قلم بند کیا ہے جو ان کی عرق ریزی اور علمی پختگی کا ثبوت ہے۔معظم بٹ نے کہا کہ دونوں کتابوں کے نام بھی ایک تخلیقی اور تصوراتی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان سفرناموں میں ادب کی چاشنی، تہذیبوں کا حسن، معاشرتی رویوں کا تجزیہ اور مختلف اقوام کا تقابلی جائزہ ایک ساتھ ملتا ہے۔ خصوصا بدھ مت کی صدیوں پر محیط تاریخ اور تہذیبی حوالوں نے کتابوں کی اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر زیڈ اے قریشی نے صرف منظر کشی نہیں کی بلکہ تاریخ، تہذیب اور مختلف ممالک کے باہمی روابط کو بھی خوبصورتی کے ساتھ تحریر کا حصہ بنایا ہے۔ معظم بٹ کے مطابق یہ سفرنامے قارئین کو نہ صرف متاثر کریں گے بلکہ انہیں بہت کچھ سیکھنے اور دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع بھی فراہم کریں گے۔
سینئر صحافی امجد عزیز ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چائنہ ونڈوپاک چین دوستی کے فروغ کے ساتھ ساتھ علمی، ادبی، تعلیمی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے جہاں ہفتہ وار مختلف تقریبات کا کامیابی سے انعقاد کیا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ چائنہ ونڈو آج صرف ایک ثقافتی مرکز نہیں بلکہ مختلف تہذیبوں، خیالات اور ادبی روایات کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
امجد عزیز ملک نے کہا کہ ڈاکٹر زیڈ اے قریشی نہ صرف ایک ممتاز براڈ کاسٹر، استاد اور دانشور ہیں بلکہ وہ ایک حساس مشاہدہ رکھنے والے ادیب بھی ہیں جو اپنے لفظوں سے قاری کو سوچنے، محسوس کرنے اور سیکھنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسمان تلے بکھرے موتی میں مصنف نے دنیا کے مختلف خطوں کو صرف ایک سیاح کی نظر سے نہیں دیکھا بلکہ ایک مفکر اور حساس انسان کی حیثیت سے ان کا مطالعہ کیا ہے جبکہ سکونِ صبح و طلوعِ آفتاب کی سرزمین امید، خوبصورتی اور انسانی فکر کی تازگی کا استعارہ محسوس ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جب انسان ذہنی تنہائی اور بے چینی کا شکار ہے تو ایسے ادب کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے جو انسان کو مثبت انداز میں سوچنے، محسوس کرنے اور دنیا کو بہتر زاویے سے دیکھنے کا شعور دے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر زیڈ اے قریشی کی تحریریں نئی نسل کے لئے مطالعہ، مشاہدہ، تحقیق اور تہذیبی آگہی کا حسین امتزاج ہیں۔
چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر ناز پروین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر زیڈ اے قریشی نے اپنے سفرناموں میں ملائشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ اور فلپائن سمیت مختلف ممالک کی تہذیب، ثقافت، سماجی رویوں اور انسانی تعلقات کو نہایت دلچسپ اور منفرد انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسمان تلے بکھرے موتی ایک ایسا سفرنامہ ہے جس میں مصنف کے مشاہدات اور اسلوبِ بیان قاری کو اپنے ساتھ ہم سفر بنا لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر زیڈ اے قریشی کے سفرنامے اعلی معیار کی علمی و ادبی کاوش ہیں جن میں فکری گہرائی، مشاہداتی وسعت اور تہذیبی شعور نمایاں طور پر موجود ہے۔
تقریب کے اختتام پر شرکا نے اس امید کا اظہار کیا کہ چائنہ ونڈوآئندہ بھی اسی طرح علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے میں مثبت فکری روایت کو فروغ دیتا رہے گا۔بعدازاں اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایازنے مصنف زیڈ اے قریشی کو چائنہ ونڈو کی جانب سے یادگاری شیلڈ بھی پیش ک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed