2023ء کے بعد کوئی ڈگری جعلی نہیں’ گومل یونیورسٹی

جعلی ڈگریوں سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے گومل یونیورسٹی کا بڑا موقف سامنے آ گیا، جس میں انہوں نے واضح کر دیا کہ 2023 کے بعد کوئی ڈگری جعلی نہیں۔گومل یونیورسٹی کے رجسٹرار ظاہر شاہ نے سوشل میڈیا پر چلنے والی جعلی ڈگریوں سے متعلق خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 2023 کے بعد یونیورسٹی کے ریگولر اور پرائیویٹ سسٹم کے تحت جاری ہونے والی کوئی بھی ڈگری جعلی نہیں ہے۔رجسٹرار کے مطابق 542 مبینہ بوگس ڈگریوں کی چھان بین میں 2018 سے 2023 کے دوران ریکارڈ میں بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گڑبڑ مختلف پرائیویٹ کالجز کے ریکارڈ میں ٹریس ہوئی، جن میں جوہر آباد، لیہ اور پنجاب کے دیگر علاقے شامل ہیں۔فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں مبینہ طور پر ایک نائب قاصد، ایک کنٹرولر اور دو ڈائریکٹر ایفیلی ایشن کو ملوث پایا گیا ہے، جنہیں معطل کر کے شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، ان افراد کو 30 دن کے اندر جواب دینا ہوگا۔گومل یونیورسٹی کے مطابق اس سے منسلک 72 پرائیویٹ کالجز میں سے 10 کالجز کی ہائی لیول کمیٹی کے ذریعے جانچ مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ باقی کالجز کی رپورٹس بھی جلد سامنے لائی جائیں گی۔رجسٹرار کے مطابق موجودہ وائس چانسلر کی ہدایت پر CMS سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت تمام پرائیویٹ کالجز کے امتحانات یونیورسٹی کی براہ راست نگرانی میں ہوں گے، شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور تمام ریکارڈ ڈیجیٹل اور کنٹرولڈ ہوگا۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد تعلیمی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا اور مستقبل میں کسی بھی قسم کی جعلسازی کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed