مدھیہ پردیش کی ہائیکورٹ نے مسجد کو مندر قرار دیدیا

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہائی کورٹ نے ضلع دھار میں واقع کمال مولا مسجد کمپلیکس کو ہندو مندر قرار دیا ہے۔ عدالت نے ہندو برادری کو پوجا کا حق دیا ہے، مسلم فریق نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ یہ مقام دراصل ہندو دیوی وگدیوی (سرسوتی) کا مندر ہے۔عدالت نے یہ فیصلہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی سروے رپورٹ کی بنیاد پر سنایا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کمپلیکس سے حاصل ہونے والے نوادرات، نقوش اور باقیات قبل ازیں موجود مندر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہائی کورٹ نے 2003ء کا وہ سرکلر منسوخ کر دیا جس کے تحت مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کی اجازت دی گئی تھی۔ عدالت نے ہندوؤں کو اس تاریخی مقام پر پوجا کرنے کی مستقل اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اگر مسلم فریق درخواست دے، تو مدھیہ پردیش حکومت ضلع دھار میں ہی مسجد کی تعمیر کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے پر غور کرے۔مقامی مسلم رہنماؤں اور تنظیموں نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔یاد رہے کہ 2014میں ہندو توا جماعت بی جے پی کے برسراقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں اقلیتوں خاص طورپر مسلمانوں کا جینا حرام ہو چکا ہے ۔ ہندو توا غنڈو ں کی طرف سے مسلمانوں کو پیٹ پیٹ کر قتل کرنا، انہیں مساجد میں نماز کی ادائیگی سے روکنا مختلف حیلے بہانوں سے انکے گھر ، مساجد اور دیگر املاک مسمار اور ان پر قبضہ کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed