بین الصوبائی منشیات فروش انمول عرف پنکی کو سخت سیکیورٹی میںعدالت میں پیش کردیا گیا ۔کمرہ عدالت میں پیشی کے موقع پر ملزمہ پنکی نے چیخ و پکار شروع کردی اور پولیس پر تشدد کا الزام لگاتے ہوئے کہا میرا کوئی قصور نہیں، مجھے مارتے ہیں۔تفصیل کے مطابق انمول عرف پنکی کو سخت سیکیورٹی میں کمرہ عدالت پہنچایا گیا تو وہاں شدید ہنگامہ آرائی اور ڈرامائی مناظر دیکھنے میں آئے۔سماعت کے موقع پر ملزمہ نے عدالت کے اندر ہی چیخ و پکار شروع کر دی اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی پر اتر آئی۔کمرہ عدالت میں میڈیا اور جج کے سامنے روتے اور چیختے ہوئے ملزمہ انمول عرف پنکی نے پولیس پر تشدد کا سنگین الزام عائد کیا۔ملزمہ کا کہنا تھا، "میرا کوئی قصور نہیں ہے، مجھے بے گناہ پھنسایا گیا ہے اور پولیس مجھے مارتی ہے اور مجھ پر تشدد کرتی ہے۔ملزمہ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی جا رہی ہے اور منشیات فروشی کے نام پر اس کے پورے خاندان کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سماعت کے دوران ملزمہ کے وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ وکیل اور ملزمہ دونوں کا مکمل موقف سنا جائے گا، جج نے ملزمہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ سانس لیں، آرام سے، میں آپ کی مکمل بات سنوں گا۔دورانِ سماعت ملزمہ کے وکلا نے کورٹ روم کا دروازہ بند کرنے کی درخواست کی، تاہم جج نے کہا کہ وہ کورٹ روم کا دروازہ بند نہیں کر سکتے، عدالت نے ملزمہ سے اس کا نام دریافت کیا، جس پر اس نے بتایا کہ اس کا نام انمول ہے، عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمہ کو ایف آئی آر نمبر 147، تھانہ بغدادی کے مقدمے میں پیش کیا گیا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی عمل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس سے پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمہ کا پہلا آرڈر کہاں ہے؟ جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ پہلا آرڈر موبائل فون میں موجود ہے۔عدالت نے ملزمہ انمول سے سوال کیا کہ آپ کی طبعیت اب ٹھیک ہے، جس پر ملزمہ نے بتایا کہ میرے خلاف بیس سے پچیس مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، عدالت نے حکم دیا کہ نظرثانی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے سابقہ دونوں آرڈرز عدالت میں پیش کیے جائیں۔دورانِ سماعت عدالت نے تفتیشی افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ یہ انوسٹی گیشن ہے آپ کی؟ ملزمہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کو 15 مئی کو پیش کیا جانا چاہئے تھا، جبکہ بائیس دن ہوگئے ہیں کبھی کہیں تو کبھی کہیں لے کر جارہے ہیں۔ملزمہ انمول نے عدالت میں بتایا کہ اسے لاہور سے پولیس وین کے ذریعے کراچی لایا گیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ تین روزہ ریمانڈ کے دوران کیا پیش رفت ہوئی، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ اب تک سات افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ ملزمہ تعاون کے بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کی نشاندہی پر مختلف مقامات سے ریکوری بھی کی جا رہی ہے۔قبل ازیں پولیس نے میڈیا نمائندوں کو ملزمہ انمول عرف پنکی سے بات کرنے سے روک دیا ، ملزمہ کا چہرہ مکمل طور پر ڈھانپا گیا۔ ملزمہ انمول عرف پنکی کو انتہائی سخت سیکیورٹی حصار میں مقامی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ ملزمہ انمول پنکی کو بغدادی تھانے سے عدالت منتقل کرنے کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ملزمہ کی منتقلی کے لیے 2 قیدی وینز اور 9 پولیس موبائلوں پر مشتمل بھاری نفری کا قافلہ استعمال کیا گیا، ماضی میں اس طرح کا بھاری پروٹوکول صرف ہائی پروفائل دہشت گردوں کی منتقلی کے وقت دیکھنے میں آتا تھا۔عدالت آمد کے موقع پر پولیس اہلکاروں نے ملزمہ کی سیکیورٹی کے لیے موبائل کے اطراف ایک سخت حصار بنا رکھا تھا اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔پولیس حکام کی جانب سے میڈیا نمائندوں کو ملزمہ انمول عرف پنکی سے بات چیت کرنے سے بھی سختی سے روک دیا گیا۔عدالت میں پیشی کے وقت پولیس موبائل کے اندر موجود ملزمہ کو عبایہ پہنایا گیا تھا اور اس کا چہرہ مکمل طور پر ڈھانپا ہوا تھا۔







