پشاور ہائی کورٹ نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غیر قانونی طور پر رقوم حاصل کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کی جانے والی وصولی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک تنخواہوں سے کٹوتی روکنے کا حکم جاری کردیا۔سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالت میں درخواست گزاروں کی جانب سے وکلا امین الرحمن یوسفزئی، عمر فاروق، حبیب انور و دیگر پیش ہوئے جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر قانونی امور جمال عبد الناصر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار وکلا نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری ملازمین، خصوصا کلاس فور ملازمین، سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت حاصل شدہ رقوم کی مد میں تنخواہوں سے بھاری کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، جس کے باعث بعض ملازمین کی پوری ماہانہ تنخواہ تک وصولی میں چلی جاتی ہے۔ وکلا کے مطابق بعض ملازمین سے ان کی تنخواہ سے بھی زیادہ رقم وصول کی جا رہی ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ بعض اطلاعات کے مطابق گریڈ بیس کے افسران نے بھی اس پروگرام سے فائدہ اٹھایا ہے، اور سوال اٹھایا کہ ایسے معاملات میں صرف تنخواہوں سے کٹوتی کافی ہے یا متعلقہ محکموں کی جانب سے تادیبی کارروائی بھی ضروری ہے۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نمائندے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ غیر اہل سرکاری ملازمین سے رقوم کی وصولی کی جا رہی ہے اور بعض صورتوں میں ادارے کے اپنے ملازمین سے بھی ریکوری کی گئی ہے۔عدالت نے پروگرام انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اہلیت کے معیار سے متعلق مکمل تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، جس میں واضح کیا جائے کہ پہلے اور بعد کے قواعد کیا تھے اور کن افراد کو اس پروگرام کا حق دار سمجھا گیا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک تنخواہوں سے کٹوتی روکنے کا حکم برقرار رکھاگیا۔







