ڈاکٹر تاشفین خان کی عبوری ضمانت،متعلقہ فورم سے رجوع کی ہدایت

پشاور ہائی کورٹ نے سابق بیوروکریٹ ڈاکٹر تاشفین خان کے خلاف نیب انکوائری سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کے دوران انہیں عبوری ضمانت دیتے ہوئے یکم جون تک متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔کیس کی سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔ دوران سماعت ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب محمد علی اور درخواست گزار کے وکیل بابر خان یوسفزئی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر تاشفین خان سابق سینئر بیوروکریٹ ہیں اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری سمیت اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وکیل کے مطابق نیب نے ان کے موکل کے خلاف انکوائری شروع کی اور ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل بھی ان کے خلاف انکوائری شروع ہوئی تھی جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کیا تھا، اور دوسری انکوائری پر سپریم کورٹ نے بھی نیب کو کارروائی سے روکا تھا۔وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود نیب کی جانب سے کارروائی جاری ہے اور مبینہ طور پر صوابی میں بھی ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر سٹے آرڈر موجود ہے تو پھر گھر پر چھاپہ کیوں مارا گیا؟نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے تحت تحقیقات جاری ہیں اور ان کے مطابق ڈاکٹر تاشفین خان اور ان کی اہلیہ پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں جن کی تفتیش کی جا رہی ہے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ڈاکٹر تاشفین خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں یکم جون تک متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت جاری کی۔بعد ازاں کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed