شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے قتل کے خلاف آج ملک بھرمیں یوم سیاہ منایا جائے گا جبکہ احتجاج بھی کیا جائے گا، جبکہ دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام ف خیبر پختون خوا کے امیر سینیٹر مولانا عطا الرحمن نے شدید مذمت کی ہے۔سینیٹر مولانا عطا الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ علما کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ناقابلِ برداشت ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا ادریس جے یو آئی ف کی شوری کے رکن تھے، ایسے واقعات امن و امان کی خراب صورتِ حال کو ظاہر کرتے ہیں۔اِن کا کہنا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے، حکومت عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔مولانا عطا الرحمن نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 13 سال سے مسلط حکومت نے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا اور صرف مرکز کے خلاف سیاست میں مصروف ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں امن بحال کیا جائے اور شہریوں کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔سینیٹر مولانا عطا الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ اس قتل کے خلاف کل صوبائی اور وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جائے گا جبکہ تمام اضلاع میں بے امنی کے خلاف مظاہرے بھی کیے جائیں گے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حکومت عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔







