پشاور ہائی کورٹ بنوں بینچ نے جج ہمایون دلاور اور ان کے بھائی کے خلاف پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی ہدایات پر درج اینٹی کرپشن قانون کے تحت درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دے دیا۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے جج ہمایون دلاور کے خلاف پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور بشری بی بی کو توشہ خانہ کیس میں سزا دینے کی پاداش پر، بے بنیاد اور من گھڑت ایف آئی آر درج کی تھی۔ جس کو جج ہمایون دلاور اور ان کے بھائی نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ آج پشاور ہائی کورٹ بنوں بینچ کے دو رکنی بینچ جو کے جسٹس طارق آفریدی اور جسٹس ثابت اللہ پر مشتمل تھا، نیکیس کی سماعت کی اور اینٹی کرپشن قانون کے تحت درج ایف آئی آر کو بے بنیاد اور غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیا۔ جج ہمایون دلاور اور ان کے بھائی کی طرف سے ساول نذیر خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے کیس کی پیروی کی۔ جبکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز انعام الرحمان اور اصغر احمدزئی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے طویل دلائل سننیکے بعد اپنا فیصلہ سنا دیا۔






