یہ ہمیں مارنے کیلئے لے کر جا رہے ہیں،قزاقوں کے ہاتھوں مغوی پاکستانی کا والد کو آڈیو پیغام

بحری جہاز ایم ٹی آنر25پر صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمال بنائے جانے والوں میں سے ایک پاکستانی کی آڈیو وائرل ہے جس میں وہ اپنے والد کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔اغوا کئے گئے پاکستانیوں کے اہلخانہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وہ ابتدا میں جہاز پر خوراک کا کوئی مسئلہ نہیں تھا تاہم اب وقت کے ساتھ ساتھ خوراک کی قلت ہو رہی ہے جبکہ جہاز پر موجود 50 کے قریب قزاقوں کی جانب سے عملے کے اراکین پر ناصرف تشدد کیا گیا ہے بلکہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ایم ٹی آنر 25 کی آپریٹنگ کمپنی وارف چارٹرنگ انڈونیشیا میں رجسٹرڈ ہے۔ جہاز کا کپتان کا تعلق انڈونیشیا سے ہے جبکہ عملے میں بھی چار انڈونیشی شہری شامل ہیں۔پاکستانیوں کے علاوہ سری لنکا، میانمار اور انڈیا سے تعلق رکھنے والا ایک، ایک شہری بھی عملے میں شامل ہے۔بی بی سی کے مطابق اس حوالے سے پاکستانی وزارتِ خارجہ سے بھی رابطہ کیا، تاہم تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ادھر وزارتِ بحری امور کے بیان کے مطابق وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چودھری نے اس واقعے کی جامع رپورٹ طلب کرنے کے بعد پاکستانی عملے کی بحفاظت بازیابی یقینی بنانے کے ضمن میں کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایات کی ہیں۔ بیان کے مطابق وزارتِ بحری امور متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہے جبکہ وزارتِ خارجہ سے بھی صومالیہ کی حکومت سے سفارتی رابطوں کے ذریعے پاکستانی عملے کی رہائی کی کوششوں کی درخواست کی گئی ہے۔مغویوں کے اہلخانہ کے مطابق یہ آئل ٹینکر عمان سے صومالیہ کے لیے روانہ ہوا تھا جب 21 اپریل کو قزاقوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔اہلخانہ کے مطابق ابتدائی طور پر قزاقوں نے تمام عملے سے موبائل فونز لے لیے تھے، تاہم بعد ازاں مختصر وقت کے لیے اپنے اپنے اہلخانہ کو اطلاع دینے کی اجازت دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed