صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق کے کمیٹی روم میں نیشنل ایکشن پلان برائے بزنس اینڈ ہیومن رائٹس سے متعلق صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سیکرٹری قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق، جناب اختر سعید ترک نے کی۔
یہ اجلاس نو تشکیل شدہ اور توسیع شدہ کمیٹی کا پہلا اجلاس تھا، جس میں حکومتی محکموں، کاروباری برادری، خیبر پختونخوا اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ کمیٹی کی یہ جامع نمائندگی حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ بزنس اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے ایک شمولیتی اور کثیرالجہتی طریقہ کار اپنایا جائے۔
اجلاس کے دوران یو این ڈی پی کے ماہر کی جانب سے NAP-BHR پر ایک تکنیکی بریفنگ دی گئی، جس میں بین الاقوامی معیارات، ریاستی ذمہ داریوں اور ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل کے فروغ میں صوبوں کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔ بعد ازاں شرکاء کے درمیان تفصیلی اور بامقصد گفتگو ہوئی، جس میں مختلف آراء اور تجاویز پیش کی گئیں۔
ڈائریکٹر جنرل قانون و انسانی حقوق نے کمیٹی کو 2019 سے NAP-BHR پر عملدرآمد کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اس ضمن میں پیش رفت محدود رہی ہے۔ اس موقع پر اس امر پر زور دیا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر جاری نظرثانی کے تناظر میں تمام متعلقہ فریقین سے مؤثر مشاورت نہایت ضروری ہے تاکہ صوبائی ترجیحات اور زمینی حقائق کو بہتر انداز میں شامل کیا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے باہمی روابط کو مضبوط بنانے، اسٹیک ہولڈرز کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنانے اور خیبر پختونخوا میں بزنس اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے ایک عملی اور قابلِ عمل روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا۔






