صوبائی اسمبلی اجلاس کی کارروائی میں اہم فیصلے، اسمبلی تحلیل کے بعد بھی سپیکر عہدے پر برقرار اور ان کی مراعات بحال رہیں گی ، اس حوالے سے قانونی مسودہ تیار کر کے فنانس کمیٹی کے سپرد کرنے کی تیاری کی جانے لگی ہے۔واقعات کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کیلئے مراعات بڑھانے اور مراعات طے کرنے کیلئے اختیارات فنانس کمیٹی کے سپرد کرنے کا قانون تیار کرلیا گیا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف 1975 کے پرانے قانون کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے بلکہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو غیرمعمولی اختیارات، وسیع مالی مراعات اور قانونی تحفظات دینے کا راستہ بھی ہموار کیا جا رہا ہے۔مجوزہ قانون کے تحت اسمبلی کی تحلیل کے بعد بھی سپیکر عہدے پر برقرار اور ان کو دی جانیوالی مراعات برقرار رہیں گی، جبکہ دوران ملازمت اسے گرفتاری سے مکمل استثنی حاصل ہوگا۔ خیبرپختونخوا سپیکر اور ڈپٹی سپیکر (استثنی، مراعات، تنخواہیں اور الانسز) بل میں کئی ایسی شقیں شامل کی گئی ہیں جو ماضی کے قانون میں موجود نہیں تھیں۔1975 کے قانون میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں اور مراعات کی واضح حد مقرر تھی تاہم نئے مجوزہ قانون میں یہ اختیار ایک فنانس کمیٹی کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو مستقبل میں ان عہدوں کی تنخواہوں اور الانسز کا تعین کرے گی۔ بل کی سب سے اہم شق کے تحت سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو اپنے عہدے کی مدت کے دوران گرفتاری، حراست یا کسی بھی قسم کی قانونی پابندی سے مکمل استثنی حاصل ہوگا۔اسی طرح ایک اور اہم شق کے مطابق صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے بعد بھی سپیکر اپنے عہدے پر برقرار رہے گا اور نئے سپیکر کے انتخاب تک وہ تمام سرکاری مراعات، رہائش، گاڑیاں اور دیگر سہولیات استعمال کرتا رہے گا







