وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیر صدارت لیبر ڈیپارٹمنٹ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے قانونی و ادارہ جاتی فریم ورک، جاری اصلاحاتی اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں مزدوروں کی سوشل سکیورٹی رجسٹریشن کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا، تاکہ کم از کم اجرت کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے صوبائی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت پر مکمل عمل درآمد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو رجسٹریشن کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گڈ گورننس ایجنڈے کے تحت رجسٹریشن کا ہدف مقررہ مدت سے قبل حاصل کر لیا گیا ہے اور یکم مئی تک اس میں نمایاں اضافہ یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس میں لیبر کورٹس کی تعداد میں اضافے کی ضرورت سے بھی اتفاق کیا گیا، جس پر وزیر اعلیٰ نے معاملہ متعلقہ فورم پر اٹھانے کی ہدایت جاری کی۔ مزید برآں مزدوروں کے لیے پشاور میں تعمیر شدہ رہائشی فلیٹس کی الاٹمنٹ کے لیے لیٹرز جلد جاری کیے جانے سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران سٹوڈنٹ یونینز کی بحالی کے دیرینہ مسئلے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے اس حوالے سے قرارداد بھی منظور کی گئی ہے اور یونینز کی بحالی کے لیے عملی پیش رفت جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جس کے بعد تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت سے ایک متوازن ضابطہ اخلاق ترتیب دیا جائے گا۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ سٹوڈنٹ یونینز کے ضابطہ اخلاق، حدود و قیود اور دیگر امور کو قانونی شکل دینے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی۔ بریفنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یونینز کی بحالی سے طلباء کو جمہوری عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، جو مستقبل کی قیادت کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔







