آئی پی پیز کو نوٹس جاری’ پاور پرچیز ایجنسی سے جواب طلب

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سرحد چیمبر آف کامرس کی رٹ پر سماعت کی۔
عدالت نے پاور پرچیز ایجنسی سے کمنٹس طلب کرتے ہوئے آئی پی پیز کو نوٹس جاری کر دیے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 1994 کے معاہدوں میں چیک اینڈ بیلنس کا فقدان رہا جس سے قومی خزانے پر اربوں کا بوجھ پڑا۔
کمیٹی رپورٹ کے مطابق پانچ آئی پی پیز کو 39 ارب 20 کروڑ روپے زائد ادائیگیاں کی گئیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مہنگی بجلی نے عوام اور تاجروں کو شدید متاثر کیا ہے اور لوگ بل ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ آئی پی پیز کے معاہدوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور صرف حقیقی پیداواری صلاحیت کے مطابق ادائیگی کی جائے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed