خیبر پختونخوا کے میڈیکل ٹیچنگ اداروں میں نئے قوانین کے تحت مقررہ اوقاتِ کار کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ایم ٹی آئی قوانین کے نفاذ کے باوجود ہسپتالوں میں پرانے اوقات کار رائج تھے جس پر پالیسی بورڈ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ ایم ٹی آئیز اداروں کو طبی عملے کو صبح 8 بجے سے سہہ پہر 4 بجے تک ڈیوٹی پر موجودگی کو لازمی قرار دے دیا۔اس سلسلے میں پالیسی بورڈ نے ہسپتالوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔ پالیسی بورڈ خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق چیئرمین ڈاکٹر نوشیروان برکی نے مختلف ایم ٹی آئیز کے حالیہ جائزے کے دوران یہ بات نوٹ کی کہ متعدد ادارے ایم ٹی آئی آر ایکٹ اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بیشتر اسپتال اب بھی پرانے اوقاتِ کار یعنی صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک، ہفتے میں 6 دن کام کر رہے ہیں جس کے باعث دوپہر 2 بجے کے بعد سوائے ہنگامی حالات کے اسپتال عملاً بند ہو جاتے ہیں اور عملہ صرف 6 گھنٹے یومیہ ڈیوٹی انجام دے رہا ہے۔مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ قواعد (آئٹم 23) کے مطابق ملازمین کے باقاعدہ اوقاتِ کار صبح 8 بجے سے شام 4 بج کر 30 منٹ تک ہوں گے جس میں 30 منٹ کا وقفہ برائے دوپہر کا کھانا شامل ہے جبکہ ہفتے میں 5 دن کام کیا جائے گا۔تاہم شفٹوں میں کام کرنے والے شعبہ جات کے لیے اوقات مختلف ہو سکتے ہیں کیونکہ اسپتال تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پالیسی بورڈ نے تمام بورڈ آف گورنرز سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں ان اوقاتِ کار پر عملدرآمد کی تصدیق کریں اور اسے یقینی بنائیں۔







