افغان بیوہ خاتون کی اپنے بچوں سمیت پاکستانی شہریت کے حصول سے متعلق دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہعدالتی حکم نامے کے مطابق نادرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ درخواست گزار کے کیس پر قانون کے مطابق تین ماہ کے اندر کارروائی مکمل کی جائے، عدالت نے مزید قرار دیا کہ اس دوران درخواست گزار خاتون اور ان کے بچوں کو ملک بدر نہ کیا جائے۔درخواست گزار کے وکیل ثنا گلزار ایڈووکیٹ نے مقف اختیار کیا کہ خاتون کی شادی ایک پاکستانی شہری سے ہوئی تھی جو بعد ازاں وفات پا چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ درخواست گزار اور ان کے بچوں کے پاس پہلے پروف آف رجسٹریشن کارڈز موجود تھے تاہم اب وہ نادرا سے نکاح کی بنیاد پر شہریت کے لیے رجوع کر چکی ہیں۔وکیل کے مطابق کیس نادرا کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں زیر التوا ہے جبکہ درخواست گزارہ نے پی او آر کارڈز کی منسوخی کی بھی استدعا کر رکھی ہے۔درخواست میں مقف اپنایا گیا کہ خاتون کو حراست اور ملک بدری کا خدشہ ہے، لہذا عدالت فریقین کو ڈی پورٹیشن سے روکے اور نادرا کو کیس کا فیصلہ مقررہ مدت میں کرنے کا حکم جاری کرے۔عدالت نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا کہ درخواست گزار اور ان کے بچوں کو اس دوران ملک بدر نہ کیا جائے اور نادرا تین ماہ کے اندر قانون کے مطابق کارروائی مکمل کرے۔







