ظلم و جبر کے باوجود ہتھیار نہیں اٹھائیں گے’ سہیل آفریدی

وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں منعقدہ وکلاء جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس جرگے کے انعقاد کی تجویز معزز عدلیہ کے ججز کی جانب سے پیش کی گئی تاکہ ملک میں رائج غیر قانونی نظام کیخلاف مو ثر اور منظم مزاحمت کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انہوں نے وکلابرادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس عزم، حوصلہ اور طاقت موجود ہے اور اب وقت آ چکا ہے کہ اپنے حق کے حصول کیلئے اس قوت کا بھرپور اظہار کیا جائے، کیونکہ اگر آج مزاحمت نہ کی گئی تو آنیوالی نسلیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی جائینگی۔وزیر اعلی نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز نے انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی، تاہم اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اس حکم کو صریحاً نظر انداز کیا جو کہ نہ صرف عدلیہ کی توہین ہے بلکہ آئین کی بالادستی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر ایک سرکاری افسر ججز کے احکامات ماننے سے انکار کرے تو پھر آئین و قانون کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ ان کی حکومت اور جماعت ملک میں آئین و قانون کی بالادستی، حقیقی انصاف اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی کی خواہاں ہے، تاہم موجودہ حالات میں انصاف کا فقدان نمایاں طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک نہایت تشویشناک ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ عمران خان کی اہلیہ ایک غیر سیاسی خاتون ہیں جنہیں تنہائی میں رکھا گیا اور ملاقاتوں تک سے محروم کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر قانون کے نام پر گولیاں چلائی جا سکتی ہیں تو وہ اسی آئین و قانون کی سربلندی کیلئے گولیاں کھانے کیلئے بھی تیار ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ کسی بھی صورت ہتھیار نہیں اٹھائیں گے اور نہ ہی کوئی غیر آئینی قدم اٹھایا جائے گا۔ وزیر اعلی نے کہا کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج سے ملاقات کیلئے گئے مگر طویل انتظار کے باوجود نا صرف ملاقات نہ ہو سکی بلکہ سلام کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا گیا، جو کہ نظامِ انصاف کی موجودہ کیفیت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کرنے کے باوجود انصاف کہیں دکھائی نہیں دے رہا اور اگر آج ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کل یہی رویہ دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی اختیار کیا جائے گا۔ وزیر اعلی نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ وکلاء برادری کو بھی دبائو کا سامنا ہے اور انہیں فوجی عدالتوں میں پیش کیے جانے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث پوری قوم کی نظریں اب وکلابرادری پر مرکوز ہیں۔انہوں نے وکلاکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس صورتحال میں مو ثر مزاحمت کرنا ہوگی اور یقین دلایا کہ وہ خود اور پوری قوم وکلاء کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بائیس اپریل کو عمران خان اور بشری بی بی کے کیسز مقرر ہیں اور وکلاکو چاہیے کہ وہ ان کیسز میں شفاف ٹرائل کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ ستائیس اپریل کو کراچی میں بھی وکلاجرگہ منعقد ہوگا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔وزیر اعلی نے واضح کیا کہ اگر پانچ مئی تک شفاف ٹرائل کو یقینی نہ بنایا گیا تو چھ مئی کو ملک بھر میں مکمل قلم چھوڑ ہڑتال کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے جرگے میں وکلاکی بھرپور شرکت اور طاقت کے مظاہرے نے ایک واضح پیغام دیا ہے جس سے بعض عناصر کی نیندیں اڑ چکی ہیں اور اب یہ جدوجہد مزید شدت اختیار کرے گی۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ظلم کبھی مستقل نہیں رہتا، چاہے کتنا ہی بڑھ جائے بالآخر مٹ جاتا ہے اور حق و سچ کی ہی فتح ہوتی ہے۔ انہوں نے شاندار جرگے کے انعقاد پر صوبے خصوصا پشاور کے وکلاکو مبارکباد پیش کی اور ملک بھر سے کثیر تعداد میں شرکت یقینی بنانے پر وکلا برادری کو خراج تحسین پیش کیا۔ سینئر قانون دان سلمان اکرم راجہ اور دیگر نے بھی جرگے سے خطاب کیا اور آئین و قانون کی بالادستی، ظلم و فسطائیت کے خاتمے اور انصاف کے حصول کے لیے اپنے عزائم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ملک میں قانون کی بالادستی اور ظلم و جبر کے خاتمے کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے لیے متفقہ قراردادیں بھی پیش کی گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed