مہاجر خواتین سے شادیاں’ 55 ہزار سرکاری ملازمین کی رپورٹ مرتب

افغان مہاجرین خواتین سے شادیاں کرنے والے 55 ہزار سے زاہد سرکاری صوبائی ملازمین کے بارے میں رپورٹ مرتب کر لی ہے پشاور سمیت صوبے بھر میں افغان مہاجرین خواتین سے شادیاں کرنے والے بلدیات۔ایجوکیشن۔جنگلات۔سمیت مختلف صوبائی ڈیپارٹمنٹ کے مختلف گریڈ کی ملازمین کی تفصیلات ذمہ دار سرکاری ذرائع کے مطابق مرتب کر لی گئی ہے ابتدائی مرحلے میں 55 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کی نشاندہی کی گئی ہے جن کا تعلق پشاور سمیت صوبے کے مختلف علاقوں سے ہے اور سابقہ ادوار میں افغان مہاجرین خواتین سے شادیاں کی ہیں جبکہ دیگر غیر ملکی خواتین سے شادیاں کرنے والے سرکاری ملازمین کا ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے ڈیٹا مرتب کرنے کے بعد ان کی تفصیلات و وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھجوا دی جائیں گے افغان مہاجرین سے شادیاں کرنے والے سرکاری ملازمین نے بغیر کسی اجازت کے شادیاں کی تھی جبکہ بعض سرکاری ملازمین نے اپنے غیر ملکی خواتین مہاجرین بیگمات کو اپنی فیملی ہسٹری میں شامل کر کے ان کے لیے قومی کارڈ وغیرہ بھی بنایا ہے ذرائع کے مطابق مختلف غیر ملکی خواتین سے شادیاں کرنے والے سرکاری ملازمین کے بارے میں جانچ پڑتال شروع ہے ابتدائی مرحلے میں 55 ہزار سے زائد ملازمین کی نشاندہی کر دی گئی ہے جبکہ دیگر ڈاکٹرز ایکسائز ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر ملازمین جنہوں نے یورپی ممالک عرب ممالک چین جاپان سمیت دیگر ممالک میں شادیاں کی ہیں ان کی تفصیلات بھی اکٹھی کی جا رہی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed