پشاور ہائیکورٹ نے بیٹنی قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی شناختی کارڈ کے اجراء سے متعلق دائر درخواست پر نادرا حکام کو تین ماہ کے اندر درخواست گزاروں کو قانون کے مطابق کلیرنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے رٹ درخواستیں نمٹا دیں ۔عدالت نے اس حوالے سے تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا ہے۔ فیصلہ پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد نے تحریر کیا ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں کے وکیل کے مطابق درخواست گزار ٹانک کے بیٹنی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ فیصلے کےمطابق درخواست گزار 70 کے دہائی میں پشاور آئے اور یہاں پر غریب آباد سالارزئی میں آباد ہوگئے وہ یہاں پر کاروبار بھی کر رہے ہیں۔ وکیل کے مطابق انکا ایک مؤکل خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس کا ممبر بھی ہے انکے شناختی کارڈز 2024 میں ایکسپائر ہوئے جس کی تجدید کے لیے نادرا میں ایپلائی کیا گیا تا ہم نادرا نے تجدید کی بجائے انکے کارڈز منسوخ کیے۔درخواست گزاروں کے وکیل کے مطابق شناختی کارڈ کی اجراء نہ کرنے سے درخواست گزار بینادی حقوق سے محروم ہیں انکا کا دعوی ہے کہ وہ پاکستانی ہے لہذا کلیئنرنس سرٹیفکیٹ کا اجراء قانون کے مطابق کریں۔ عدالت نے نادرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ یہ تمام عمل 90 دن کی مدت میں مکمل کریں،







