خیبرپختونخواحکومت کے ذمے کوئی ملکی قرضہ واجب الادا نہیں ،اسمبلی میں بریفنگ

خیبرپختونخوااسمبلی کوبتایاگیاکہ گزشتہ چار ادوارمیں صوبائی حکومت کی طرف سے لینے والے قرضے870ارب روپے تک تجاوزکرگئے ہیں 30جون2024تک صوبائی حکومت کے ذمے مجموعی غیرملکی زرمبادلہ قرضہ679.547ملین روپے ہے جوکہ ایک امریکی ڈالر285روپے کے شرح تبادلہ کی بنیاد پرشمارکیاگیاہے موجودہ وقت میں خیبرپختونخواحکومت کے ذمے کسی بھی قسم کاکوئی ملکی قرضہ واجب الادا نہیں ہے۔اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پی پی کے پارلیمانی لیڈر احمدکنڈی نے سوال کیاکہ 2008سے لیکر2024تک لئے گئے قرضوں کی مقدار870ارب تک پہنچ چکی ہے معاملے کوسٹینڈنگ کمیٹی بھیجاجائے ۔چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی وایم پی اے ارباب عثمان نے کہاکہ قائمہ کمیٹی کواہمیت نہیں دی جارہی ہے نوٹیفکیشن کے باوجود محکمہ خزانہ ہمیں جواب نہیں دے رہاہے ڈیپارٹمنٹس کوپابندبنایاجائے کہ وہ رولز کے مطابق ہمیں ایک ہفتہ میں جواب دیاکریں۔ سپیکرنے کہامیں ریکارڈطلب کرلیتاہوں کوتاہی ہوئی ہو تو کوئی سیکرٹری قابل نہیں ہوگاکہ وہ اپنے عہدے پر قائم رہے۔ وزیرقانون آفتاب عالم نے کہاکہ ڈالرمیں اضافہ کی وجہ سے قرضوں کا حجم بڑھاہے سوال قائمہ کمیٹی جانے سے ہمیں اعتراض نہیں جس پر ایوان کی منظوری سے سپیکرنے سوال سٹینڈنگ کمیٹی ریفرکردیا۔ایم پی اے اشبرجدون کے سوال پر ایوان کوبتایاگیاکہ مالی سال2024ـ25کے دوران صوبہ کوکسی قسم کامالی خسارہ درپیش نہیں تھا بلکہ حکومت نے مالی نظم وضبط موثرمنسوبہ بندی کی بدولت178ارب روپے فاضل ظاہر کیا جسکی تفصیلات کے مطابق کل آمدن1,482,767ارب روپے،کلاخراجات1,477.736ارب روپے جبکہ فاضل 5.031ارب روپے تھا ایم پی اے احسان اللہ کے سوال پر متعلقہ وزیر نے جواب دیاکہ 2022میں دس ارب روپے میں چارارب90کروڑکی ادائیگی سیلاب متاثرین کو ہوچکی ہے جبکہ باقی افرادکوادائیگی کیلئے 2022ء میں پی ڈی ایم حکومت میں فنانس کوکیس بھیجاگیاتھاجس پرعملدرآمد نہیں ہوسکا تاہم متاثرین کوبروقت ادائیگی کیلئے ہدایات جاری کرینگے۔ن لیگ رکن آمنہ سردارنے بینک آف خیبرمیں صوبائی حکومت کی طرف سے ڈائریکٹرکی نامزدگیوں کی تفصیلات مانگی جس پر وزیرقانون آفتاب عالم نے کہاکہ پرائیویٹ بورڈآف ڈائریکٹرکی شرح زیادہ تھی ان کے شیئرسے،بعدازاں ان کی تعدادکم کردی تھی محرک رکن نے درست فرمارہی ہیں کہ انہیں ڈائریکٹر کی تفصیلات نہیں دی گئی سپیکرنے برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ڈیپارٹمنٹس کی نااہلی کوکیوں چھپاتے ہیں جس نے جواب دیاہے اس سے وضاحت طلب کریں تنخواہیں اورسہولیات یہ پوری لے رہے ہیں اداروں کایہ حال ہے جس کے بعد انہوں نے سوال قائمہ کمیٹی بھیج دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed