ہر دور میں جنوبی اضلاع کو نظر انداز کیاگیا’ چیف جسٹس عتیق شاہ

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا ہے کہ ہر دور میں جنوبی اضلاع کے لوگوں کو نظرانداز کیا گیا ایک طرف اسے دہشت گردی مار رہی ہے تو دوسری جانب روڈ حادثات میں گزشتہ سال ڈھائی سو سے زیادہ افراد جان سے گئے ہم اس پر آنکھیں بند نہیں کرسکتے جب ایک محکمہ بغیر چیئرمین کے چلایا جا رہا ہے تو کس طرح وہ ان منصوبوں کو مکمل کرے گا جبکہ عدالت نے واضح طور پر کہا تھا کہ انڈس ہائی وے کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا اب وقت اگیا ہے ہم جنوبی اضلاع کے لوگوں کی محرمیوں کا ازالہ کریں اور انہیں ریلیف دیں فاضل چیف جسٹس نے یہ ریمارکس گزشتہ روز انڈس ہائی وے کی مخدوش صورت حال کی کیس کی سماعت کے دوران دیئے۔ دو رکنی بنچ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس اعجاز خان پر مشتمل تھا ۔اس موقع پر عدالت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثنا اللہ، صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل انعام یوسفزئی ،درخواست گزار وکیل ۔امجد حسن تنولی ، این ایچ اے کے وکیل سکندر رشید اور جی ایم انڈس ہائی وے پیش ہوئے۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے این ایچ اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ اپ لوگ بتائیں انڈس ہائی وے پر کتنا کام ہوا ہے جس پر این ایچ اے کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ 85 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے تاہم انڈس ہائی وے پر کوئی ٹریفک اہلکار نہ ہونے کی وجہ سے حادثاث ہو رہے ہیں اور بے ہنگم ٹریفک بھی کام میں رکاوٹ ڈال رہی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چیئرمین این ایچ اے کہاں ہے جس پر وکیل این ایچ اے کہا کہ یہ عہدہ خالی ہے اور چیئرمین کی تقرری ابھی تک نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران 274 سے زائد افراد انڈس ہائی وے پر حادثات میں جاں بحق ہوئے ہیں دوسری جانب وہاں پر دہشت گردی نے بھی ان لوگوں کو متاثر کیا ہے کب ہم ان کو سہولیات دینگے اور ان کی محرمیاں ختم کریں گے کیونکہ یہ وقت ہے کہ ان کو ریلیف دیا جائے این ایچ اے کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ہم نے 6 بیلن وپے مانگے ہیں جنوری میں 5 ارب روپے جاری ہونگے جس سے کام مکمل ہو سکتا ہے تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ اپ لوگوں کے پاس 127 بلین روپے ہیں اور اپ لوگوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ہنگامی بنیادوں پر انڈس ہائی وے کو مکمل کریں گے تاہم این ایچ اے کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے حالات تبدیل ہو گئے اور زیادہ تر فنڈز ایمرجنسی کی بنیاد پر وہاں لگانا پڑا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو بھی ہو ہم نے کہا تھا کہ سارے منصوبے ایک طرف کرکے اس پر کام کریں یہ ایک اہم منصوبہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے مکمل نہیں ہو رہا۔ دہشت گردی بھی ان علاقوں میں کئی دہائیوں سے آرہی ہے جب انکے جان ومال کا تحفظ نہیں ہوگا تو کیسے یہ چلے گا ۔این ایچ اے کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ یہ منصوبہ مکمل کرنے پر کام جاری ہے تاہم بعض مقامات پر مشکلات آرہی ہیں عدالت نے تمام متعلقہ وفاقی سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ این ایچ اے کے وکیل کے ساتھ میٹنگ کرے اور اس مسلے کا حل نکالیں اور فندز جاری کریں اسی دوان عدالت نے سیکیورٹی سے متعلق ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا تو انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کمشنر کوہاٹ متصم باللہ شاہ کو ہائیکورٹ نے فوکل پرسن مقرر کیا ہے جنہوں نے رپورٹ جمع کی ہے رپورٹ کے مطابق 16 اہم مقامات پر اس وقت 80 سے زائد ٹریفک کے اہلکار تعینات ہیں جس پر این ایچ اے کیوکیل نے کہا کہ وہ گزشتہ ہفتے گئے تھے اور وہاں پر ایک بھی پولیس موجود نہیں تھا جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ ہم جو رپورٹ دے رہے ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں ہم نے جو بھی کہا ہے وہ حلف پر کہا ہے اور عدالت میں موجود ہے تاہم عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ وہ اس ضمن میں تفصیلی رپورٹ جمع کریں اور کمشنر کوہاٹ کو ہدایت کی کہ وہ اگلی تاریخ پر کی گئی پراگرس کے حوالے سے عدالت کوبتائیں عدالت نے سماعت 11 دسمبر تک کے لئے ملتوی کردی اس طرح فاضل عدالت نے چترال میں بونی بوزنگ روڈ کی تعمیر سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کی تو چیف انجینئر نارتھ نے عدالت کوبتایا کہ 28 کلو میٹر روڈ ہے ،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed